فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 40

نماز سے متعلقہ مسائل لیکن اگر نماز میں خیالات ادھر اُدھر منتشر رہیں اور توجہ قائم نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟ جواب:۔نماز میں توجہ قائم نہ ہونے کے کئی وجوہ ہوتے ہیں۔ہمیں پہلے ان وجوہ کو تلاش کرنا چاہئے اور پھر علاج کرنا چاہئے کیونکہ مرض کی تشخیص کے بغیر علاج نہیں کیا جاسکتا۔۔ایک وجہ نماز میں توجہ قائم نہ ہونے کی یہ ہوتی ہے کہ نماز کی طرف رغبت ہی نہیں ہوتی اور جب رغبت نہ ہو تو توجہ کس طرح پیدا ہوسکتی ہے۔بعض دفعہ دماغی کمزوری کی وجہ سے توجہ قائم نہیں رکھی جاسکتی۔۔اگر کسی امر کی طرف حد سے زیادہ توجہ کی جائے تو اس کے نتیجہ میں بھی بے تو جہگی اور دماغی انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔غرض مختلف اسباب ہوتے ہیں کوئی ایک قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ان اسباب کی تشخیص کر کے پھر ان کا علاج کیا جاسکتا ہے۔سوال :۔نماز پڑھتا ہوں مگر تسلی نہیں ہوتی ؟ (الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۶ء۔نمبر ۲۴۴) جواب: تسلّی کا یہ ذریعہ ہے کہ وضو اچھی طرح سے کرے پھر نماز کے بعد کچھ دیر استغفار پڑھے سنتیں پہلی اور پچھلی اچھی طرح توجہ اور سنوار کر پڑھے۔نماز اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کر اور معنےسمجھ کر پڑھے۔پھر بھی اگر اپنے دل میں سکون اور اطمینان نہ پائے تو گھبرائے نہیں بلکہ بار بار ایسا ہی کرے کیونکہ یہ ایک دو دن کا کام نہیں بلکہ تمام عمر کا کام ہے۔ايك مسجد میں دوسری جماعت ( الفضل ۲۳ دسمبر ۱۹۲۰ء) ڈیوٹی پر متعین افراد نماز با جماعت کے بعد دوبارہ باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں“ حضرت سید سر ورشاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ