فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 405

۴۰۵ متفرق خد و خال اصل میں ہوتے ہیں۔عکسی میں ہو بہو وہی ظاہر ہو جاتے ہیں لیکن دستی تصویر میں ہوسکتا ہے کہ کوئی مصور کسی نبی کی تصویر بنائے اور اس کے چہرے پر نشانات ڈال دے۔جن سے اس کی معصومانہ صورت تبدیل ہو جائے اور وہ ایک بُرے انسان کی شکل میں دکھائی دے یا کسی پاکدامن اور شریف عورت کی آنکھوں میں ایسی علامات بھر دے جن سے وہ شریر ظاہر ہو۔چونکہ دستی تصویر میں محض اظہار حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ اس میں مصور کے خیالات کا دخل ہوتا ہے اور مصور نیکوں اور پاکبازوں کی تصاویر میں شرارت بھی کر سکتا ہے اور شریف کو شریر کی شکل میں دکھا سکتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کی ممانعت فرمائی۔اور بذریعہ عکس جو فوٹو لیا جاتا ہے اس کی ممانعت نہیں فرمائی کیونکہ اس سے حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۳۶ صفحہ۳۔جلد۳۴ نمبر ۹۸) سوال :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ مسیح الاول اور خود حضور کی تصاویر بکتی ہیں۔کیا یہ حضور کو پسند ہے؟ جواب :۔سوائے کسی خاص ضرورت کے ایسی تصویروں کا خرید نا یا بیچنا میں نہایت ہی نا پسند کرتا ہوں۔الفضل ۱۴ر جنوری ۱۹۱۵ء صفحہ ۷۔جلد ۲ - نمبر ۹۱) فوٹو بت پرستی تو نہیں سوال :۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکر کیا اور عرض کیا لوگ کہتے ہیں یہ بت پرستی ہے؟ جواب: فرمایا۔کیا بت پرستی ہے؟ کیا کسی کی شکل دیکھنا بت پرستی ہے۔رہا یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایسا نہیں ہوا۔سو اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔رسول