فرموداتِ مصلح موعود — Page 306
۳۰۶ معاملات ہندوؤں کے ہاں چلا جائے گا ؟ جواب :۔اس بارے میں ہمارا مسلک دوسرے لوگوں سے مختلف ہے اس وقت جو کچھ میں بیان کروں گا یہ احمدی عقیدہ ہوگا۔یہ نہیں کہ دوسرے علماء کیا کہتے ہیں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔ہمارے سلسلہ کے بانی نے یہ رکھا ہے کہ سود اپنی ذات میں بہر حال حرام ہے۔ترکوں نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بنکوں کا سود سود نہیں۔حنفی علماء کا فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزوں کی حکومت ہے اور یہ حربی ملک ہے اس لئے غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے اور اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ کوئی یہ مسئلہ پوچھتا ہی نہیں۔لوگ کثرت سے سود لیتے اور دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں چاہے بنگ کا سود ہو چاہے دوسرا دونوں حرام ہیں۔لیکن بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فیصلہ کیا ہے جو اسلام کے دوسرے مسائل سے مستنبط ہوتا ہے۔ایک حالت انسان پر ایسی بھی آتی ہے جو وہ کسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس سے بچنے کے لئے یہ کہنا کہ فلاں چیز جائز ہے اور فلاں ناجائز یہ فضول بات ہے۔مثلاً ایک آدمی گند میں گر جائے جو کئی گز میں پھیلا ہو اور اسے کہا جائے کہ گند میں چلنا منع ہے تو وہ کس طرح اس گند سے نکل سکے گا۔بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ رکھا ہے کہ اگر کوئی اس لئے سود لے کہ سود کی بلا سے بچ جائے تو وہ لے سکتا ہے مثلاً ایک جگہ وہ بیس فیصدی سود ادا کرتا ہے اگر اسے پانچ فیصدی سود پر بنک سے رو پیل سکتا ہے تو وہ لے لے۔اس طرح امید ہوسکتی ہے کہ وہ سود کی بلا سے بچ سکے۔سود لینا بھی گناہ اور سود دینا بھی گناہ۔الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۶ نمبر ۱ ۵ صفحه ۶) الفضل ۳۰ / مارچ ۱۹۱۵ء۔نمبر ۱۲۱،۱۲۰) سود پر روپیہ لینا جائز نہیں۔جو احمدی ہو کر ایسا کرتا ہے اس کا دین اور دنیا دونوں ضائع ہو جا ئیں گے۔الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۱۶ء۔جلد ۳۔نمبر ۹۹ ۱۰۰- صفحه ۲) سوال :۔سرکاری رو پس یہ نقاوی سود پر ملتا ہے کیا لے لیں؟