فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 279

۲۷۹ حدود قاضی بھی اُسے بد نام اور آوارہ قرار دے دے تو پھر الزام لگانے والے کوصرف فتنہ پیدا کرنے کی سزادی جائے گی۔یہ بھی فقہاء نے بحث کی ہے کہ گو یہاں محصنات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔محسنین کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا مگر اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ جبکہ مردوں کے ذکر میں عورتیں شامل سمجھی جاتی ہیں تو عورتوں کے ذکر میں مرد کیوں نہ شامل سمجھے جائیں گے۔پس وہ اس آیت کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے سمجھتے ہیں۔پھر فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جگہ محصنات کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے اور محنین کا نہیں کیا گیا تو اس سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گومر د بھی اس حکم میں شامل ہیں مگر عورتوں کی عزت بچانا سوسائٹی کا پہلا فرض ہے۔کیونکہ جھوٹے الزاموں سے عورت کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور مرد کی عزت کو کم۔اگر چار گواہ نہ ہوں وہ تین ہوں تو ان پر حد لگے گی اور اگر چار گواہ تو ہوں لیکن فاسق ہوں تب بھی بعض فقہاء کے نزدیک گواہوں پر حد لگے گی۔لیکن میرے نزدیک حد نہیں لگے گی۔کیونکہ فاسق قرار دینے کا فیصلہ قاضی کے اختیار میں تھا اور گواہ کو اس کا کوئی علم نہیں ہوسکتا تھا کہ مجھے فاسق قرار دیا جائے گا یا نہیں ہاں قاضی کو تعزیر کا اختیار ہوگا یعنی حالات کے مطابق سزا دینے کا تا کہ آئندہ احتیاط رہے اور جس پر الزام لگایا گیا ہو اس کی برأت کی جائے گی۔قرآن کریم کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ قاذف کے علاوہ چار گواہ ہوں گے یعنی کل پانچ نہ کہ قاذف سمیت چار۔بعض لوگوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ شہادت ایک مقام پر ہوگی یا مختلف مقامات پر لیکن میرے نزدیک یہ بحث فضول ہے۔قاضی جس طرح چاہے گواہی لے لےلیکن یہ ضروری ہے کہ گو مقام شہادت مختلف ہوں مگر جس واقعہ کی شہادت ہو وہ ایک ہی ہو تا کہ وہ احتیاط جو غلطی سے بچنے کے لئے کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے اور منصوبہ بازی کا ازالہ ہو جائے۔یہ حکم اس زمانہ میں خوب یا درکھنے کے قابل ہے کیونکہ جس قدر بے حرمتی اور ہتک اس زمانہ میں اس کی ہورہی ہے اور کسی حکم کی نہیں ہو رہی۔بلا دلیل اور بلا وجہ اور بلاکسی ثبوت کے محض کھیل اور تماشہ