فرموداتِ مصلح موعود — Page 278
۲۷۸ حدود چار دفعہ بغیر پولیس کے قاضی کے سامنے ہونا چاہئے۔اور اقرار بھی قسمیہ ہونا چاہئے۔تب اس کو حد لگے کی۔لیکن اگر ایسا شخص چار دفعہ اقرار کرنے کے باوجود بعد میں انکار کر دے تو اس کو حد زنا نہیں لگے گی۔ہاں اگر اُس نے کسی عورت کا نام لیا ہو تو حد قذف اس کو لگے گی۔کیونکہ اس نے ایک عورت پر زنا کا الزام لگایا۔قذف کے متعلق فقہاء میں یہ بحث ہے کہ وہ کس طرح ہوتا ہے۔اگر صریح ہو تو اس پر حد ہے اور اگر کنایہ ہو جیسے یہ کہہ دے کہ اے فاسقہ، یا اے مواجرہ، یا اے ابنتہ الحرام تو اسے قذف نہیں سمجھا جائے گا جب تک اس کے ساتھ نیت نہ ہو۔بلکہ عام طور پر یہ گالی سمجھی جائے گی اور اگر تعریضاً ہو جیسے کوئی کہے کہ میں تو زانی نہیں اور وہ اشارہ یہ کہنا چاہتا ہو کہ تو زانی ہے یا کسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دے کہ اے ابن حلال اور اس کا مقصد یہ ہو کہ مخاطب ابن حلال نہیں تو امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو تعریض قذف نہیں لیکن امام مالک کے نزدیک قذف ہے اور امام احمد کے نزدیک غصہ کی حالت میں ایسا کہا گیا ہو تو قذف ہے ورنہ نہیں۔لیکن میرے نزدیک جو کلام بھی کسی ایسے رنگ میں ثابت ہو جائے کہ اس کے سننے والوں پر کسی الزام کا اثر ڈالنا مقصود ہوتو وہ قذف ہے اور اس طرح قابل سزا ہے جس طرح آزاد آدمی اگر قذف کرے تو اس کے لئے اسی کوڑے سزا مقرر ہے اگر غلام قذف کرے تو اسکے لئے چالیس کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔لیکن اس کا فیصلہ قاضی کرے گا۔پبلک کا کام نہیں کہ اس کا فیصلہ کرے۔اگر غیر شادی شدہ عورت یا غیر شادی شدہ مرد پر کوئی قذف کرے تو قرآن کی رو سے اس پر کوئی حد نہیں ہاں قانون یا قاضی مناسب حال سزا اس کے لئے تجویز کرے گا۔گویا ایسے مقدمہ کا فیصلہ صرف اس بناء پر ہوگا کہ قاضی اس کو مجرم قرار دیدے۔اس کے بعد حکومت اس سے مجرموں والا سلوک کرے گی ورنہ نہیں۔گویا اسلام نے دونوں کو پابند کر دیا۔قاضی کو طریق شہادت سے پابند کر دیا اور حکومت کو قاضی کے فیصلہ سے پابند کر دیا اور اگر کوئی شخص کسی غیر محصنہ پر جس کو پہلے کبھی سزامل چکی ہو الزام لگائے تو اس کو تعزیر کی سزا ملے گی کیونکہ پھر عزت کا سوال نہیں بلکہ فتنہ ڈالنے کا سوال ہوگا۔لیکن اگر الزام کسی ایسے شخص پر لگایا جائے جو مشہور بدنام اور آوارہ ہو اور