فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 276

حدود لئے انہیں سزا نہ دی جائے مگر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتویٰ پر ضرور عمل کروں گا۔بات یہ تھی کہ پہلے تین گواہوں نے تو الزام کی تائید میں گواہی دی مگر چوتھے نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ دیکھا تو ہے مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کوئی غیر عورت تھی یا اس کی اپنی بیوی تھی۔اس شہادت نے پہلے تینوں گواہوں کو سزا کا مستحق بنادیا۔الفضل ۱۶ جون ۱۹۳۱ء - جلد ۱۸ نمبر ۴۵ صفحه ۵)۔زنا ثابت کرنے کے لئے چارگواھوں کی شہادت مقرر کرنے کی وجه چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ کیوں قرآن کریم نے چار گواہوں کی شرط لگائی ہے اور کیوں دوسرے الزمات کی طرح صرف دو گواہوں پر کفایت نہیں کی۔اس لئے یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو کی بجائے چار گواہوں کی شرط لگانا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کے واقعات میں کثرت سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔بس اسی وجہ سے زیادہ گواہوں کی شرط لگادی گئی ہے اور پھر ایک ہی واقعہ کے متعلق چار کی شرط اس لئے لگائی کہ ایک وقت میں پانچ آدمیوں کا اکٹھا ہونا یعنی الزام لگانے والے اور چار گواہوں کا۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ اس کا جھوٹ آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اور جرح میں ایسے لوگ اپنے قدم پر نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ پانچ آدمیوں کا ایک جگہ موجود ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا اخفاء مشکل ہوتا ہے اور پانچ آدمی مل کر یہ جھوٹ بہت کم بنا سکتے ہیں کیونکہ اس میں بعض کی نسبت یہ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے کہ یہ تو اس وقت فلاں جگہ پر بیٹھا تھا۔پس چونکہ زنا ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے بیرونی دلائل نہیں ہوتے۔اس لئے اس پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے اس وجہ سے شریعت نے چوری اور قتل کے لئے تو دو گواہوں کی گواہی کو تسلیم کیا لیکن بدکاری کے الزام کے متعلق چار گواہوں کی شرط لگائی اور