فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 275

۲۷۵ حدود ہے مثلاً میں جارہا ہوں اور میں نے دیکھا کہ زید بکر کو مار رہا ہے۔پس اس کے لئے چارشاہدوں کی ضرورت نہیں۔میں بحیثیت مجسٹریٹ خود اپنی شہادت پر ہی اسے سزا دے سکتا ہوں۔دراصل وہ جرائم جن میں چار گواہوں کی شہادت اسلام میں قرار دی گئی ہے وہ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے جرائم ہیں اور ایسے جرائم میں گواہوں کو مجسٹریٹ خود نہیں بلا سکتا جب تک وہ خود بطور مدعی پیش نہ ہوں۔اور یہ نہ کہیں کہ ہم فلاں بات کے گواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ فلاں شخص پر مقدمہ چلایا جائے۔لیکن مقدمہ شروع ہونے کے بعد اگر ان میں سے ایک بھی الزام لگانے سے انکار کر جائے تو باقی تین کو سزا ملے گی جیسا کہ حضرت عمر کے زمانہ میں ہوا۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر پہلا ہی گواہ مکر جائے تو باقی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی شہادت بند کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم اب شہادت دینا نہیں چاہتے۔لیکن اگر پہلے وہ الزام زنا میں شہادت دے چکے ہوں اور چوتھا مگر جائے تو شہادت دینے والوں کو سزا دی جائے گی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسی طرح ہوا تھا کہ تین گواہوں کے بعد جب چوتھے کی باری آئی تو اس کی شہادت مشتبہ پائی گئی۔اس پر شہادت دینے والوں کو سزادی گئی۔دراصل شریعت کا منشاء یہ ہے کہ ایسی باتوں کی اشاعت نہ کی جائے۔سوال :۔عرض کیا گیا کہ آیا قاضی کو کوئی بات بتانا بھی قذف کا مستحق بناتا ہے یا صرف لوگوں میں اشاعت کرنا ؟ جواب :۔فرمایا۔رپورٹ کرنا اور چیز ہے۔اس کے ماتحت دوسرا مجرم نہیں قرار پاسکتا ہے۔مگر مقدمہ کے طور پر اگر معاملہ لے جایا جائے اور پھر چار عینی گواہوں کے ذریعہ ثابت نہ کیا جائے تو یہ جرم ہے اور شریعت نے اس کی سزار کھی ہے۔سوال :۔عرض کیا گیا کہ کیا ایسی شہادت کو دوسروں سے مخفی رکھنے کا حکم ہے؟ جواب:۔فرمایا۔مجھے تو کوئی ایسا حکم معلوم نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کے زمانہ کے واقعہ سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو سننے کی اجازت ہے کیونکہ اس موقعہ پر حضرت علی کی موجودگی بھی ثابت ہے۔چنانچہ آتا ہے انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ چونکہ تینوں گواہ صحابی ہیں اس