فرموداتِ مصلح موعود — Page 191
۱۹۱ نکاح پنجاب کے قریباً تمام نکاح ٹوٹے ہوئے سمجھے جائیں گے اور سب اولا دیں ولد الزنا مجھی جائیں گی لیکن اس نکاح میں ایک نئی بات پائی جاتی ہے کہ نہ صرف نکاح بلا اجازت ہوا بلکہ لڑکی نکاح کے بعد عدم رضامندی ظاہر کرتی رہی ہے اور اس کا بیان ہے کہ میں صرف اس لئے گئی کہ میرا باپ تو میری بات نہیں مانتا شائد میر امنسوب میری بات مان لے کہ جب میں اس نکاح پر رضا مند ہی نہیں تو ہمارا نکاح باطل ہے گو اس کی توجیہ اور رنگ میں بھی کی جاسکتی ہومگر چونکہ لڑکی کی رضا مندی شروع سے ثابت نہیں ہے۔اس لئے میں اس کے بیان کو رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا اور مندرجہ ذیل فیصلہ کرتا ہوں :۔1۔لڑکی کا نکاح فسخ کیا جائے۔2 لڑکے کے جتنے اخراجات ہوئے ہیں خواہ وہ کسی رنگ میں ہوئے ہیں اس کو لڑکی کے باپ سے دلوائے جائیں کیونکہ اس کے ساتھ دھو کہ بازی ہوئی۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲ - صفحه ۵۰۔دارالقضاء، ربوہ) منگنی سوال :۔ہمارے ملک کا رواج ہے کہ جب با قاعدہ منگنی ہو جائے اور لڑکی کو زیور اور کپڑے پہنا دیئے جائیں تو وہ نکاح کا قائم مقام سمجھی جاتی ہے۔اس واسطے اس لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح نہیں ہوسکتا؟ جواب :۔فرمایا:۔یہ کوئی دعوی نہیں۔نہ منگنی کوئی شرعی بات ہے جب والدین راضی اور لڑکی راضی ہے تو کسی تیسرے شخص کو بولنے کا حق نہیں۔(رجسٹر ہدایات حضرت خلیفہ مسیح الثانی۔(۲۶۔۶۔۵۴ --- فیصلہ بلوغ کی صورت میں ) اگر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا نکاح توڑ دیا جاوے تو۔۔۔اس قدر جھگڑے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ابھی دونوں آپس میں ملے نہ تھے۔اس وقت اگر باہمی تنازع پیدا ہو گیا تھا تو ان کو خوشی سے اس نکاح کو تو ڑ دینا چاہئے تھا۔کیونکہ ایسا نکاح در حقیقت ایک رنگ منتقلی کا رکھتا ہے