فرموداتِ مصلح موعود — Page 124
۱۲۴ نماز جنازه احمدیت کی تبلیغ ہوگی۔اس لئے کسی کے جنازہ کے متعلق صاف بات ہے اور جہاں ہم نہیں ہیں وہاں ہمیں جنازہ پڑھنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔(الفضل ۶ مئی ۱۹۱۵ء نمبر ۱۳۶) غیر احمدی کاجنازه ایسے لوگ جو جنازے پڑھتے ہیں یہ ایک خطرناک غلطی ہے۔میں کہتا ہوں اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے مردہ بخشا جائے گا تو تمہیں معذور سمجھا جا سکتا ہے لیکن کیا تم خیال کرتے ہو کہ تمہارے جنازہ پڑھنے سے وہ غیر احمدی بخشا جاتا ہے یا تم اس بات کے ذمہ دار ہو کہ وہ جہنم سے بچ جائے۔اگر نہیں۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھتے ہو؟ کیا یہی نہیں کہ تم رشتہ داروں یا تعلق والوں کا منہ رکھتے ہو۔اور کہتے ہو کہ اگر جنازہ نہ پڑھا تو ان کو کیا منہ دکھا ئیں گے؟ حالانکہ وہی منہ دکھانا قابل عزت و فخر ہو سکتا ہے جو بے عیب ہو مگر جو کافر کا جنازہ پڑھتا ہے اور خدا کے نبی کو گالیاں دینے اور جھٹلانے والے کا جنازہ پڑھتا ہے اس کا منہ تو چھپانے کے قابل ہے نہ کہ دکھانے کے قابل۔تم منہ دکھانے کے قابل اسی وقت ہو سکتے ہو جب خدا تعالیٰ کے دین کی محبت تمہارے اندر ہو۔اگر تمہاری ایسی حالت ہو اور میناروں پر چڑھ کر بھی اپنے منہ دکھاؤ تو بھی جائز ہے مگر جب تم خدا کا کوئی حکم توڑتے ہوتو تمہیں غاروں میں گھس کر چھپنا چاہئے۔کیونکہ تم علی الاعلان سینکڑوں آدمیوں میں جا کر عملی طور پر کہتے ہو کہ مرزا صاحب کے متعلق جو عقیدہ ہے وہ غلط ہے پس اس فعل سے بچو۔(اصلاح نفس صفحہ ۴۴۲۔انوار العلوم جلد ۵)