فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 101

1+1 جمعہ کے ضروری احکام حضرت خلیفتہ امیج الاول یوں تو ان دنوں گورداسپور میں ہی تھے مگر اس روز کسی کام کے لئے قادیان آئے تھے ان صاحب نے خیال کیا کہ شائد جمعہ نہ پڑھے جانے کا ارشاد آپ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ مولوی صاحب یہاں نہیں ہیں اس لئے کہا حضور مجھے بھی جمعہ پڑھانا آتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں آتا ہو گا مگر ہم تو سفر پر ہیں۔ان صاحب نے کہا کہ حضور مجھے اچھی طرح جمعہ پڑھانا آتا ہے اور میں نے بہت دفعہ جمعہ پڑھایا بھی ہے۔آپ نے جب دیکھا کہ ان صاحب کو جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہوگا۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔( الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۴۲ء۔نمبر ۲۱) جمعه کی سنتیں، نماز جمعه، نمازِ جمع کرنے کی صورت میں پڑھنی چاھئیں مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ابھی جمعہ کی نماز کے وقت بعض دوستوں میں یہ اختلاف ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ ہے کہ اگر نمازیں جمع کی جائیں تو پہلی پچھلی اور درمیانی سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ جب ظہر و عصر جمع ہوں تو پہلی اور درمیانی سنتیں معاف ہوتی ہیں۔یا اگر نماز مغرب و عشاء جمع ہوں تو درمیانی اور آخری سنتیں معاف ہو جائیں گی۔لیکن اختلاف یہ کیا گیا ہے کہ ایک دوست نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر میں میرے ساتھ تھے میں نے جمعہ اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں اور جمعہ کی پہلی سنتیں پڑھیں۔یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔نمازوں کے جمع ہونے کی صورت میں سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔یہ