فرموداتِ مصلح موعود — Page 102
۱۰۲ جمعہ کے ضروری احکام بات بھی صحیح ہے اور یہ بھی صحیح کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے قبل جوسنتیں پڑھا کرتے تھے، میں نے وہ سفر میں پڑھیں اور پڑھتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے جو نوافل پڑھے جاتے ہیں ان کو دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے اعزاز میں قائم فرمایا ہے۔جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔خطبه مختصرهونا چاهئے الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۴۲ء۔نمبر ۲۱) گورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خطبہ کا یہی طریق تھا کہ جمعہ کی نماز جو دورکعت ہوتی ہے اس کی نسبت مختصر ہوتا ہے مگر اس زمانہ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر خطبہ لمبا کیا جاتا ہے۔مختصر خطبہ پڑھنا سنت یا فرض نہیں کیونکہ عرب میں رواج تھا کہ بڑی سے بڑی نصیحت کو چھوٹے سے چھوٹے فقرے میں ادا کرتے تھے اور لمبی سے لمبی بات کو ضرب المثل کے طور پر بیان کر دیتے تھے۔ہمارے ملک میں لوگ لمبی گفتگو سے مطلب سمجھتے ہیں مگر عرب میں کوشش کی جاتی تھی کہ وسیع مضمون کو دو جملوں میں ادا کیا جائے۔چونکہ خطبہ سے غرض اصلاح ہے اس لیے ملک کی حالت کو مدنظر رکھ کر لمبا خطبہ بیان کرنا پڑتا ہے۔مگر جس طرح چھوٹا خطبہ پڑھنا فرض نہیں اسی طرح لمبا خطبہ پڑھنا بھی فرض نہیں۔الفضل اار جنوری ۱۹۲۴ء۔نمبر ۵۴ - جلد۱۱) خطبه کھڑے ہو کر دینا چاهئے اسلامی سنت تو یہی ہے کہ خطبہ کھڑے ہو کر پڑھا جائے مگر میں کچھ دنوں سے بیمار ہوں