فرموداتِ مصلح موعود — Page 79
و اسلامی عبادات اور مسجد میں پڑھتے ہوئے خودسُنا ہے۔(فائل افتاء۔رجسٹر اصلاح وارشاد صفحہ ۱ - ۲۰ ستمبر ۱۹۴۳ء) کیا امام کسی لفظ کی قراءت کوباربار دھرا سکتا ھے سوال :۔کیا امام الصلوۃ کا اس طرح سے قراءت بالجہر پڑھنا جائز ہے۔۔الحمد للہ کا بار بار پڑھنا۔سورہ فاتحہ کے بعد بسم اللہ پڑھ کر کسی سورہ کا کوئی حصہ جو شروع سورہ نہ ہو پڑھنا۔معوذتین کو اس طرح پڑھنا قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یہ کلمات تمجید ہیں۔بہتر ہے کہ مخفی پڑھ لے کیونکہ یہ کلمات اس وقت پڑھے جاتے ہیں جس وقت طبیعت میں جوش آتا ہے ان کا پڑھنا قلب کی حالت پر ہوتی ہے اگر قلب کی حالت واقعی طور پر ایسی ہے کہ وہ کلمات تمجید پڑھنے پر مجبور ہے تو ثواب کا باعث ہو گا۔اگر ایسی کیفیت نہ ہوگی تو پھر بالجہر پڑھنا گناہ بن جائے گا اس لئے یہ کلمات کہنے ہوں تو آہستہ کہہ لیں۔۔اس کا حکم نہیں اعوذ کا حکم ہے شروع سورہ پر بسم اللہ پڑھنی چاہئے ورنہ بدعت ہے۔۔یہ دعا ہے اس لئے سمجھا جائے گا کہ دعا کے طور پر دہرا لیتا ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ والى تلاوت سمجھی جائے گی باقی دعا۔(الفضل ۲ رمئی ۱۹۵۱ء) سجدہ میں قرآنی دعائیں اور حضرت مسیح موعود کی الهامی دعائیں پڑھنا سوال : سجدہ میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا کیوں ناجائز ہے حالانکہ سجدہ انتہائی تذلیل کا مقام ہے؟