فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 73

اسلامی عبادات اور مسجد میں دیکھنا گڑھا ہے، کوئی کہتا ہے بچنا کیچڑ ہے، پانی ہے۔پس ایک روحانی حکمت یہ ہے کہ سہولت اور آسانی اور نور کے وقت ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے چلیں اور جب تاریکی اور بدی پھیل جائے تو اس وقت صرف عمل ہی کافی نہیں بلکہ تلقین بھی ضروری ہے۔جسم کے ساتھ زبان بھی شامل ہونی چاہئے۔رات کی نمازوں میں سے بعض حصہ کی قراءت بلند کی جاتی ہے اور بعض حصہ کی خاموش۔اس میں کیا راز ہے سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ظاہری حکمتیں بھی ہیں اور ایک باطنی بھی۔مغرب کی نماز میں دو رکعت بلند آواز سے ہیں اور ایک رکعت خاموشی سے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کے وقت ایک طرف خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور آواز سُنائی جاسکتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ تاریکی کی ابتداء کا وقت ہوتا ہے اور ہر حالت سے دوسری حالت کی طرف گریز کرتے وقت اعصاب کو ایک صدمہ پہنچتا ہے۔اس لئے بلند آواز کا حصہ زیادہ رکھا اور خاموشی کا کم۔اور عشاء کے وقت اور بھی آواز کے پہنچانے میں سہولت ہوتی ہے لیکن انسان ابتدائی صدمہ سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے مختی بالطبع ہونے کا وقت آجاتا ہے اس لئے اس میں دونوں حالتوں کو برابر رکھا ہے۔صبح کے وقت انسان پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اکثر لوگ قریب میں ہی سوکر اُٹھے ہوتے ہیں اور آواز بھی اچھی طرح سُنائی جاسکتی ہے اس لئے دور کعتوں میں قراءت رکھی تا کہ لوگوں میں سستی نہ پیدا ہو اور غنودگی دور ہو۔ان جسمانی وجوہ کے علاوہ روحانی وجوہ بھی ہیں۔در حقیقت نماز میں ہم کو یہ بتایا گیا ہے کہ انسانی روح کے کمال کے لئے دوسرے کے ساتھ تعاون وعظ و تذکیر اور مراقبہ یہ تین چیزیں ضروری ہیں۔مراقبہ کا قائم مقام خاموش نمازیں ہو جاتی ہیں جن میں انسان اپنے مطلب کے مطابق زور دیتا ہے۔وعظ و تذکیر کا نشان قراءت ہے جو انسان کو باہمی نصیحت کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہے اور تعاون کا نشان جماعت ہے۔جماعت کے علاوہ جو سب اوقات میں مدنظر رکھی گئی ہے۔دوسری دونوں