فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 64

۶۴ سور کی کھال پر نماز پڑھنا اسلامی عبادات اور مسجد میں سوال :۔سو ر کی صاف کی ہوئی کھال پر حضور نے نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے مگر ایک سائل کے جواب میں حضور نے فرمایا تھا کہ سور کی ہر چیز حرام ہے۔اس کے بالوں کا بُرش بنانا حرام ہے کیونکہ یہ نجس العین ہے۔اس صورت میں کھال کیوں کر جائز ہوسکتی ہے؟ جواب:۔مجھے یاد نہیں۔کسی جگہ سور کی کھال پر نماز پڑھنا میں نے جائز قرار دیا ہوگا۔مگر یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لحم الخنزیر کو حرام کیا ہے نہ کہ اس کی باقی چیزوں کو۔سور کی حرمت کی وجہ اس کی بے حیائی ہے سو اس کا اثر کھانے سے پیدا ہوتا ہے دوسرے استعمال سے نہیں اور بعض سابق اکابر سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔الفضل ۲۳ را گست ۱۹۴۴ء) امام کی پوری اقتداء کرنی ضروری ھے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر رہے ہوں تو پوری اقتتداء نہیں کرتے۔یہاں تک کہ امام اگر سجدہ سے سر اُٹھاتا ہے تو وہ سجدے میں پڑے ہوتے ہیں اور جب امام دوسرے سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہتا ہے تو وہ پہلے سجدہ سے سر اٹھاتے ہیں۔ایسے سجدے سجدے نہیں ہوتے کیونکہ امام کی اقتداء میں نہیں ہوتے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہوں گے امام تو ایک منٹ سجدہ کر کے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے ہم دومنٹ سجدہ کریں گے تو زیادہ ثواب ملے گا۔مگر یہ بات غلط ہے۔ایسے موقع پر امام کی اقتداء میں ہی ثواب اور نیکی ہے۔سجدہ وہی ہے جو امام کے ماتحت ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ امام کے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں یا امام سے آگے چلے