فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 57

۵۷ اسلامی عبادات اور مسجد میں جواب :۔بخاری اور مسلم میں آیا ہے کہ بالجبر نہیں پڑھی تو کیا پھر یہ دوسری کتا ہیں بخاری مسلم سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں۔فائل مسائل دینی 9۔4۔54/A-32) کیا بسم الله هر سورة کاحصه هے بسم اللہ کے متعلق بعض علماء نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ہر سورۃ کا حصہ بسم اللہ نہیں بلکہ صرف سورۃ فاتحہ کا حصہ بسم اللہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کسی سورہ کا بھی حصہ نہیں ہے لیکن یہ خیال درست نہیں۔بسم اللہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورتوں کا جز وقرار دیا ہے مثلاً سورہ فاتحہ کا حصہ ہونے کے متعلق دارقطنی نے مرفوعاً ابوہریرہ سے روایت کی ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قرأتم الحمد لله فاقرؤا بسم الله الرحمن الرحيم انها ام القرآن وام الكتاب والسبع المثاني وبسم الله الرحمن الرحيم احدى ايتها۔( دار قطنی جلد اول باب وجوب قرآة بسم اللہ ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم الحمد للہ پڑھو تو بسم الله الرّحمن الرحیم پڑھا کرو کیونکہ سورۃ فاتح ام القرآن ہے اور ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم الله الرحمن الرحیم اس کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے۔اس حدیث میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دوسری سورتوں کا بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم حصہ ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ فاتحہ کا حصہ ہے بلکہ اس کے حصہ ہونے کی دلیل دی ہے۔اور وہ یہ کہ چونکہ یہ ام الکتاب اور ام القرآن ہے اس لئے بسم اللہ اس کے ساتھ ضرور پڑھنی چاہئے اور یہ دلیل اسی صورت میں ٹھیک ہوتی ہے جب یہ آیت باقی سورتوں کا بھی حصہ ہو۔اور دلیل بالا ولی کے طور پر کہا گیا ہو