فرموداتِ مصلح موعود — Page 55
۵۵ اسلامی عبادات اور مسجد میں مقتدی کے لئے سوره فاتحہ پڑھنا ضروری هے سورہ فاتحہ ہر نماز میں اور ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے سوائے اس کے کہ مقتدی کے نماز میں شامل ہونے سے پہلے امام رکوع میں جا چکا ہو۔اس صورت میں تکبیر کہہ کر بغیر کچھ پڑھے رکوع میں چلے جانا چاہئے۔امام کی قراءت ہی اس کی قراءت سمجھ لی جائے گی۔سورہ فاتحہ کی نماز میں پڑھنے کی تاکید مختلف احادیث میں آتی ہے۔صحیح مسلم میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ نے روایت کی ہے کہ قال من صلى صلوة لم يقرء فيها بام القرآن فهي خداج (مسلم کتاب الصلوۃ باب وجوب قراءة الفاتحه ) یعنی جس نے نماز ادا کی مگر اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے اور بخاری، مسلم میں عبادہ بن الصامت کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لا صلواة لمن لم يقرء بفاتحة الكتاب ( بخاری کتاب الصلوۃ باب وجوب قراءة الامام والماموم في الصلوة کلھا ) مسلم باب وجوب القراءة الفاتحة في كل ركعتة ) یعنی جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔ایک جگہ حضرت عبادہ امام الصلوۃ تھے۔ایک دفعہ وہ دیر سے پہنچے اور ابو نعیم نے نماز شروع کرادی۔نماز شروع ہو چکی تھی کہ عبادہ بھی آگئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ہم صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ابو نعیم نے جب سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی تو میں نے سنا کہ عبادہ بھی آہستہ آہستہ سورہ فاتحہ پڑھتے رہے۔جب نماز ختم ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ جبکہ ابونعیم بالجہر نماز پڑھا رہے تھے آپ بھی ساتھ ساتھ سورہ فاتحہ پڑھتے جارہے تھے یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ہمیں نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر جب بیٹھے تو پوچھا کہ جب میں بلند آواز سے نماز میں تلاوت کرتا ہوں