فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 52

۵۲ اسلامی عبادات اور مسجد میں پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں یہ بات محبت الہی کے سلسلہ میں بیان کر رہا تھا لیکن اس کے علاوہ دوسرے امور میں بھی یہی قاعدہ چلتا ہے مثلاً نماز کو ہی لے لو۔اس میں بھی یہی قاعدہ چلتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نماز میں صفیں سیدھی نہیں رکھو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔اب صفوں کا سیدھا رکھنا بظاہر ایک غیر دینی چیز ہے یا محض نظام کا ایک حصہ ہے خود نماز کے مقصد اور اس کے مغز کے ساتھ اس کا زیادہ تعلق نہیں لیکن باوجود اس کے کہ نماز میں صفیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اتنی اہمیت دی کہ فرمایا کہ اگر تم نماز میں صفیں سیدھی نہیں کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے کیونکہ گو بعض چیزیں اپنی ذات میں مقصود نہیں ہوتیں لیکن ان کا اثر ایسا پڑتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑی چیزوں کو بھی اپنی زد میں بہالے جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے بعض علماء نے اپنے وقت میں قشر پر زیادہ زور دیا تھا لیکن ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اس پر اتناز ور دیا کہ مغز جا تا رہا۔حقیقت یہ ہے کہ مغز ہی اصل مقصود ہوتا ہے اور اگر مغز کو نظر انداز کر دیا جائے تو چھلکا کسی کام کا نہیں ہوتا۔چنانچہ صوفیاء نے یہ دیکھتے ہوئے کہ علماء اسلام چھلکے پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔مغز پر زور دینا شروع کر دیا۔مگر یہ بھی ان کی غلطی تھی کیونکہ مغز چھلکے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔غرض جن لوگوں نے قشر پر زیادہ زور دے دیا اور مغز کونظر انداز کر دیا انہوں نے بھی غلطی کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بلا وجہ پیدا نہیں کی جس خدا نے چھلکا بنایا ہے اس نے مغز بھی بنایا ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے چھلکے اور مغز دونوں کو قیمت بخشی ہے۔میں نے یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ میں نے بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہماری جماعت بعض اوقات چھلکے کونظرانداز کردیتی ہے اور صرف مغز کو مدنظر رکھتی ہے مثلاً نماز میں صفوں کو سیدھا رکھنا ہے ہماری جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی یا پھر اذان ہے اس کی تصحیح کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔(الفضل ۲۸ / مارچ ۱۹۶۲ء) (الفضل ۱۸ / اپریل ۱۹۶۵ء)