فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 37

۳۷ نماز سے متعلقہ مسائل عمل سمجھا جاتا ہے جبکہ تو بہ یا بلوغت کے بعد کی پہلی نماز سے لے کر وفات سے پہلے کی آخری نماز تک اس فرض میں ناغہ نہ کیا جائے۔جو لوگ درمیان میں نمازیں چھوڑتے رہتے ہیں ان کی سب نمازیں ہی رڈ ہو جاتی ہیں۔پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب وہ بالغ ہو یا جب اسے اللہ تعالیٰ توفیق دے اس وقت سے موت تک نماز کاناغہ نہ کرے کیونکہ نماز خدا تعالیٰ کی زیارت کا قائم مقام ہے اور جو شخص اپنے محبوب کی زیارت سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عشق کے دعوی کے خلاف خود ہی ڈگری دیتا ہے۔( تفسیر کبیر۔جلد اول ، سورہ بقرہ صفحه ۱۰۴) باجماعت نماز نہ پڑھنے والا منافق هے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ساری نمازوں میں شامل نہ ہونے والا تو الگ رہا صبح اور عشاء کی نمازوں میں شامل نہ ہونے والا بھی منافق ہے۔(الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۲۵ء۔خطبہ جمعہ ) نماز سب سے مقدم ھے دنیا میں نیکی کے اور بھی بہت سے کام ہیں لیکن نماز کو خدا تعالیٰ نے سب سے مقدم قرار دیا ہے اور سوائے اس کے کہ کوئی معذوری ہو یا کوئی ہنگامی کام پڑ جائے نمازوں کے اوقات میں مسجد میں آنا نہایت ضروری ہے۔ہنگامی کاموں سے مراد یہ ہے کہ مثلا کسی جگہ آگ لگ گئی ہو تو اس وقت آگ بجھانا ضروری ہوگا۔نماز بعد میں ادا کر لی جائے گی۔لیکن اس قسم کے استثنائی حالات کے بغیر جوشخص نماز با جماعت کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے وہ ایک بہت بڑے جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔( تفسیر کبیر۔جلد ہفتم ،سورہ نمل صفحه ۳۳۰) باجماعت نمازنہ اداکرنے والے کو جماعت سے خارج کردیاجائے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ جن احکام شرعی پر سزادی جائے گی وہ ایسے ہوں گے جو نصوص سے