فرموداتِ مصلح موعود — Page 33
۳۳ نماز سے متعلقہ مسائل مدارج نماز یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نماز کی پابندی کئی رنگ کی ہوتی ہے۔سب سے پہلا درجہ جس سے اُتر کر اور کوئی درجہ نہیں یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔جو مسلمان پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا ہے اور اس میں کبھی ناغہ نہیں کرتا وہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کی جائیں۔جب کوئی مسلمان پانچوں نماز وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز باجماعت ادا کی جائے۔باجماعت نماز کی ادائیگی سے انسان ایمان کی تیسری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے۔پھر چوتھا درجہ یہ ہے کہ انسان نماز کے مطالب کو سمجھ کر ادا کرے۔جو شخص ترجمہ نہیں جانتاوہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو تر جمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز کو ادا کرے یہاں تک کہ وہ سمجھ لے کہ میں نے نماز کو کما حقہ ادا کیا ہے۔پھر پانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نماز میں پوری محویت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے۔یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کر لے۔یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔۔۔۔اس کے بعد چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔یہ نوافل پڑھنے والا گویا خدا تعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ کہتا ہے کہ اے خدا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں۔۔۔۔