فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 26

۲۶ طہارت بھی حیض کے ایام میں کپڑے پر قرآن رکھ کر پڑھ لیتی ہیں۔میرا یہ عقیدہ نہیں۔لیکن اگر کوئی پڑھے تو ہم اسے کہتے کچھ نہیں۔کیونکہ قرآن بہر حال خدا تعالیٰ کا کلام ہے اگر کسی کے نزدیک حیض کی حالت میں اسے دیکھ کر پڑھنا جائز ہو تو کیا حرج ہے۔سوال:۔کیا حائضہ قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہے؟ ( تفسیر کبیر۔جلد پنجم ،سورہ مریم صفحہ ۱۸۷) جواب: - حائضہ عورت کو اجازت نہیں کہ قرآن شریف پڑھے یا ہا تھ لگائے۔افضل ۱۵؍ جولائی ۱۹۱۶ء صفحه ۲ جلد نمبر۳) سوال :۔قرآن مجید کی تلاوت بھی کسی وقت منع ہے مثلاً سورج نکلتے وقت یا دو پہر کو یا قرآن مجید ہر وقت پڑھا جاسکتا ہے؟ جواب :۔تلاوت کسی وقت منع نہیں سوائے اس کے کہ انسان جنبی ہو گو بعض فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بھی کر سکتے ہیں مگر زبانی۔فائل مسائل دینی نمبر A-12-8-61-32 ) جوعورتیں ایسی ہیں کہ ان پر ان ایام میں ایسی حالت ہے کہ وہ بلند آواز سے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتیں۔ان کو چاہئے کہ وہ دل میں ان آیتوں کو دہراتی چلی جائیں اور جن عورتوں کے لئے ان ایام میں قرآن کریم پڑھنا جائز ہے وہ زبان سے بھی ان آیتوں کو دہرائیں۔بہر حال جن عورتوں کے لئے ان ایام میں زبان سے پڑھنا جائز نہیں وہ زبان سے پڑھنے کی بجائے صرف دل میں ان آیتوں کو دہراتی رہیں۔کیونکہ شریعت نے اپنے حکم کے مطابق جہاں مخصوص ایام میں تلاوت قرآن کریم سے عورتوں کو روکا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ دل میں بھی ایسے خیالات نہ لائیں یا دل میں بھی نہ دہرائیں۔بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک صرف قرآن کریم کو ہاتھ لگانا منع ہے مگر احتیاط یہی ہے کہ کثرت سے جس بات پر مسلمانوں کا عمل رہا ہے اسی پر عمل کیا جائے۔پس بجائے زبان سے دہرانے کے وہ دل میں ان آیتوں کو دہراتی چلی جائیں۔( الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۵ )