فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 21

۲۱ چاہئے۔کیونکہ دوسرے کا دل دُکھانا اسلامی طریق کے خلاف ہے۔عقائد ونظریات الفضل ۲۲ رمئی ۱۹۲۲ء۔جلد ۹ نمبر ۱ ۹ صفحه ۶) حضرت ابراهیم علیه السلام نے اپنا خاندانی بت خانه توڑا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس بت خانہ کے بت توڑے تھے وہ کسی دوسرے کا نہیں تھا بلکہ ان کا اپنا خاندانی بت خانہ تھا۔اگر وہ دوسروں کا ہوتا تو اس کا توڑنا ان کے لئے جائز نہ ہوتا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا اپنا بت خانہ تھا اور انہیں ورثہ میں ملا تھا اور چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن سے ہی شرک سے سخت نفرت رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اس بت خانہ کو جو ان کی آمدنی کا ایک بڑا بھاری ذریعہ اور ملک میں ان کی عزت اور نیک نامی کا باعث تھا، تو ڑ دیا۔جب انہوں نے بتوں کو تو ڑا تو سارے ملک میں ایک شور مچ گیا۔بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا گیا۔ملک کے دستور اور بادشاہ کے قوانین کے مطابق اس فعل کی سزا جلاد دینا تھا۔یہ ایک پرانی رسم تھی کہ جو بتوں کی ہتک کرتا اُسے جلا دیا جاتا تھا۔کیونکہ بتوں کی ہتک کرنا ارتداد سمجھا جاتا تھا اور ارتداد کی سزا پرانے زمانہ میں یا تو جانا تھی یاسنگسار کرنا۔چنانچہ یورپ میں جب پراٹسٹنٹ عقیدہ کے عیسائی پیدا ہوئے تو انہیں مرتد قرار دے کر آگ میں جلایا جاتا تھا۔اس کے مقابلہ میں ایشیاء میں سنگسار کرنے کا رواج تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم تھا کہ بتوں کو توڑنے کی وجہ سے یہ سزا تجویز ہوگی۔مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اپنا نشان دکھائے۔آخر ان لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ڈال دیا لیکن عین اس موقعہ پر بادل آیا جس نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔( تفسیر کبیر۔جلد پنجم سوره انبیاء صفحه ۵۳۲،۵۳۱ - زیر آیت قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ )