فرموداتِ مصلح موعود — Page 434
۴۳۴ ضمیمه حضوران سے سلوک کے بارہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ جواب :۔لکھوایا: دنیاوی طور پر ہر طرح سے سلوک کریں اور دین کے معاملہ میں ان کو سمجھاویں اور اپنی نیکی اور محبت اور والدین کی خدمت کا ایسا نمونہ دکھاویں کہ ان کو مانا پڑے کہ آپ نے احمدی ہوکر کچھ حاصل کیا ہے۔( الفضل ۱۸ دسمبر ۱۹۲۲ء صفحه ۵) ناقصات العقل والدین ھونے کا مطلب سوال:۔عرض کیا گیا حدیث میں آتا ہے کہ عورتیں ناقصات العقل والدین ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ جواب :۔حضور نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں میں فطری کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ نبی ، امام اور خلیفہ نہیں بن سکتیں۔اگر اس کا یہی مفہوم ہوتا جو آجکل سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں کم عقل ہوتی ہیں اور دین میں ناقص تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ازواج مطہرات سے کبھی مشورہ نہ لیتے۔حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دین کا بہت سارا حصہ مروی ہے۔دیکھو حضرت عائشہ نے لا نبی بعدی کے کیسے اعلی معنے بیان کئے ہیں جن سے موجودہ زمانہ کے عظیم الشان مامور نے بھی فائدہ اٹھایا۔مردوں میں سے جہاں اس بارے میں بڑے بڑے ائمہ اور علما فضلا نے ٹھو کر کھائی وہاں ایک عورت نے ایسی اعلیٰ راہنمائی کی جس سے آج بھی ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ عورتوں کی عقل ناقص ہوتی ہے اور وہ مشورہ دینے کے قابل نہیں ہوتیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ عورت کا رحم کا پہلو غالب ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مرد کی طرح با اختیار اور خود مختار حاکم نہیں بن سکتی اور نہ نبی اور خلیفہ ہوسکتی ہے کیونکہ نبوت اور خلافت میں قوت حاکمانہ کی بھی ضرورت ہے جو عورتوں میں طبعاً کم ہے۔اس لئے اگر خلیفہ یا بادشاہ بن جائیں تو ایسے مواقع پر جہاں جابرانہ احکام نافذ کرنے کی ضرورت ہو کمزوری دکھا ئیں۔ملکہ وکٹوریہ کے متعلق ثابت ہے کہ جب کسی کو پھانسی وغیرہ کا حکم دینا پڑتا تو اس وقت نرمی دکھاتی اور انتہائی رحمدلی سے کام لیتی اور یہ بات تمام عورتوں میں ہے۔پس چونکہ حاکمانہ قوت جس میں سخت احکام بھی نافذ کرنے پڑتے ہیں عورتوں میں نہیں ہے۔اس لئے وہ ایسے موقعوں پر کمزوری اور نرمی دکھاتی ہیں جس سے حکومت میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔لہذا