فرموداتِ مصلح موعود — Page 435
۴۳۵ ضمیمه عورت کو ناقص العقل والدین کہنے سے شریعت کی مراد یہ ہے کہ وہ خفی اور خشونت سے کام نہیں کراسکتیں جس طرح مرد کر اسکتے ہیں۔یہ ایک فطری کمزوری ہے۔سوال:۔عرض کیا گیا ایک حدیث میں صاف طور پر آیا ہے کہ جب تمہارے معاملات کی باگ دوڑ عورتوں کے ہاتھ میں ہو تو تمہارے لئے اس وقت مر جانا بہتر ہے۔جواب :۔حضور نے فرمایا: حدیث نے خود ہی تشریح کر دی ہے کہ عورتیں خود مختار رئیس اور بادشاہ نہیں بن سکتیں یعنی اس سے مراد عورت کا بادشاہ ہونا ہے کہ اگر کوئی عورت تمہاری حاکم ہو جائے اور بکلی سیاہ وسفید کی وہی مالک ہو تو اس وقت حکومت تباہ ہو جائے گی۔اس سے عورتوں سے مشورہ لینے کی نفی کہاں سے نکلی؟ ہاں شوریٰ میں عورت حاکم نہیں ہوسکتی۔عورتوں کی طرف سے نمائندہ بن کر مشورہ دے سکتی ہے۔سوال :۔عرض کیا گیا : جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ عورت کا دماغ مرد کی نسبت چھوٹا ہوتا ہے۔جواب :۔حضور نے فرمایا:۔دماغ کے چھوٹے اور بڑے ہونے سے اخلاق اور عقل کو کوئی تعلق نہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑے دماغ والا ہر بات اچھی کرے بعض دفعہ چھوٹی عقل والے بڑے کام کر جاتے ہیں۔پس مشورہ دینے میں عورت کی عقل ہرگز کمزور نہیں۔مردوں کی طرح عورتیں بھی مشورہ دینے کی اہل ہیں۔سوال:۔عرض کیا گیا: کیا عورت صدیق بن سکتی ہے؟ جواب :۔حضور نے فرمایا:۔کیوں نہیں۔حضرت مریم اور حضرت عائشہ دونوں صدیقہ تھیں۔صدیقیت ایک الگ مرتبہ ہے اور خلافت الگ۔خلافت میں بعض دفعہ بختی کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو عموماً عورتوں میں نہیں اس لئے خلیفہ نہیں ہوسکتیں۔سوال:۔عرض کیا گیا: کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟ جواب:۔حضور نے فرمایا:۔ہاں بن سکتی ہے۔سوال :۔اس پر عرض کیا گیا : قاضی ہونے کی صورت میں حدود اور قصاص کے مقدمات میں