فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 431

۴۳۱ ضمیمه ماں ہی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔بیوی کو بلانا ہو تو کہتے ہیں مدر (Mother) ادھر آؤ۔ان سے اگر پوچھا جائے کہ ایسا کیوں کہتے ہوتو جواب دیتے ہیں کہ بچے نے جوسیکھنا ہے۔بچہ چونکہ ہماری نقل کرتا ہے اگر ہم مدر مدر نہ کہیں تو بچہ کس طرح مدد کہے گا۔اس لئے ہم بیوی کو مدر کہتے ہیں تا کہ بچے کو بھی مدر کہنے کی عادت پڑے۔غرض بعض قوموں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ان کی عورتیں بجائے اس کے کہ جب ان کے خاوندان کو ماں کہیں تو وہ اس کے خلاف پروٹسٹ کریں اور اپنے حقوق کی خاطر خاوندوں پر نالش کریں۔وہ خوش ہوتی ہیں اور ان میں یہ ایک قسم کا تعیش پایا جاتا ہے کہ جب ان کے خاوند ان کو ماں کہیں تو بجائے شکوہ کے وہ اس پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں۔پس معلوم ہوا کہ بیوی کو ماں کہنا ایسا جرم نہیں جس کا تعلق انسانوں سے ہو اور جس سے بنی نوع انسان کے حقوق کا نقصان ہوتا ہو کیونکہ اگر یہ انسانی جرم ہوتا تو چاہیے تھا کہ جس طرح بیوی کو مارنے پر ساری عورتیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور شور مچانا شروع کر دیتی ہیں کہ عورتوں پر ظلم ہو گیا ہے اور ان کے حقوق کو پامال کر دیا ہے اسی طرح جب کسی بیوی کو اس کا خاوند ماں کہہ دے تو ساری عورتیں کھڑی ہو جاتیں اور اس کے خلاف پروٹسٹ۔لیکن ایسا نہیں بلکہ بعض عورتیں بجائے ناراضگی کے اس پر خوش ہوتی ہیں اور بجائے بُرا منانے کے اس کو اچھا مجھتی ہیں تو معلوم ہوا کہ بیوی کو ماں کہہ دینا ایسا جرم نہیں جو انسانی حقوق کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔اگر بیوی کو ماں کہہ دینا انسانی حقوق کے خلاف ہوتا تو پھر ہر قوم اس کے خلاف ہوتی اور اس کو بُرا مناتی۔مسلمان بھی اس کے خلاف ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔یہودی بھی اس کے خلاف ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔عیسائی بھی اس کو بُرا مناتے اور اس کے خلاف ہوتے۔ہندوستانی بھی اس کے خلاف ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔انگریز بھی اس کے خلاف ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔امریکن بھی اس کے خلاف ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔عیسائی بھی اس کے خلافت ہوتے اور اس کو بُرا مناتے۔تمام مذاہب اور تمام قومیں اس کے خلاف پروٹسٹ کرتیں۔تمام ملکوں میں اس کے خلاف احتجاج ہوتا۔جس طرح گالی دینا یا مارنا ایسا جرم ہے کہ سب کے سب اس کو بُرا مناتے ہیں۔مسلمان بھی مناتے ہیں ، ہندو، یہودی، عیسائی اس کو بُرا