فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 432

۴۳۲ ضمیمه مناتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں لیکن بیوی کو ماں کہہ دینا نہ صرف یہ کہ بعض تو میں اس پر بُرا نہیں مناتیں بلکہ اس پر خوش ہوتی ہیں حالانکہ اگر یہ جرم انسانوں کے خلاف ہوتا تو سب کو اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے تھا۔پس معلوم ہوا کہ یہ قومی جرم نہیں بلکہ خدائی اور اخلاقی جرم ہے۔اخلاقی لحاظ سے بعض باتیں بری مشابہت کی وجہ سے جرم بن جاتی ہیں جس طرح یہودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اعنا کہتے تھے تو خدا نے صحابہ کو حکم دیا کہ تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔اب صحابہ راعنا کا لفظ بری نیت سے تو نہیں کہتے تھے یہودی یا دوسرے لوگ بری نیت سے کہتے تھے مگر صحابہ ادب اور احترام سے کہتے تھے مگر باوجود اس کے خدا نے صحابہ کو منع کر دیا کہ بے شک تمہاری نیت بری نہیں بلکہ تم ادب اور احترام سے یہ لفظ کہتے ہومگر اس لفظ میں چونکہ مشابہت گندی ہے اس لئے ہم تم کو منع کرتے ہیں کہ تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔اسی طرح بیوی کو ماں کہنے سے منع کرنے کا حکم بھی اخلاق کی حفاظت کے لئے ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنا قومی جرم نہیں بلکہ ہمارا جرم ہے۔ہم تمہیں روکتے ہیں کہ تم ایسا نہ کہا کرو۔اسی وجہ سے فقہاء نے ظہار کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی یعنی جب تک طلاق والے احساسات ظہار کے ساتھ وابستہ نہ ہوں اس وقت تک خالی بیوی کو ماں کہہ دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی تو فقہاء کا بھی اس طرف خیال گیا ہے کہ ظہار پر سزا خدائی جرم کی وجہ سے ہے۔پس جب یہ معلوم ہو گیا کہ یہ خدائی جرم ہے تو خدائی جرائم میں شریعت اسلامیہ کا سزا دینے کا طریق یہ ہے کہ جن جرائم کے محرکات اور موجبات زیادہ ہوں ان میں شریعت نے کم سزا رکھی ہے اور جن جرائم کے موجبات اور محرکات زیادہ ہوں اس کی سزا شریعت نے کم رکھی ہے اور جن جرائم کے موجبات زیادہ ہوں ان میں شریعت نے اس لئے سزا کم رکھی ہے کہ لوگ عام رو میں بہہ جاتے ہیں اور جہاں موجبات کم ہوں ان میں سزا اس لئے زیادہ رکھی ہے کہ جو شخص باوجود کم محرکات ہونے بھی اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے وہ گویا شریعت کی تضحیک کرتا ہے۔اب کسی شخص کا اپنی بیوی کو ماں کہ دین یا یہ کہہ دینا کہ تو میری ماں کی طرح ہے اس کے کون سے موجبات اور محرکات ہیں جن کی وجہ سے وہ ماں کہتا ہے۔