فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 430

۴۳۰ ضمیمه تحریر رقبہ تو دونوں جگہ ہے لیکن وہاں کفارہ ظہار میں شہرین منتا بعین یعنی متواتر ساٹھ روزوں کا ذکر ہے اور یہاں کفارہ یمین میں تین روزوں کا ذکر ہے اور اس کے ساتھ منتا بعین کا لفظ نہیں۔اگر روزے تحریر رقبہ کا قائمقام ہیں تو کفارہ ظہار میں ساٹھ اور کفارہ بمبین میں تین کیوں ہیں اور پھر وہاں یہ ذکر ہے کہ متواتر رکھے اور یہاں متواتر کا ذکر نہیں۔اسی طرح کفارہ ظہار میں ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے اور اس کے بالمقابل کفارہ یمین میں اطعام کا قائمقام کسوہ کو رکھا ہے مگر کفارہ ظہار میں اس کا ذکر نہیں۔اس کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ جرائم کی سزا جرم کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر ہوا کرتی ہے اور سزا کی ترتیب بھی اسی لحاظ سے ہوتی ہے۔مثلاً بعض دفعہ جرم کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور بعض جگہ جرم کی اہمیت کم ہوتی ہے۔جہاں جرم کی اہمیت زیادہ ہوگی وہاں اس جرم کی سزا بھی زیادہ ہوگی اور جہاں جرم کی اہمیت کم ہوگی وہاں اس جرم کی سزا بھی کم ہوگی۔جہاں تک بنی نوع انسان کے حقوق کا تعلق ہے وہاں شریعت نے اس امر کو مد نظر رکھا ہے کہ جہاں نقصان زیادہ ہو وہاں اس جرم کی سزا بھی زیادہ رکھی ہے اور جہاں نقصان کم ہو وہاں اس کی سزا بھی کم رکھی ہے اور جو جرائم ایسے ہیں جن کا در حقیقت انسانوں سے تعلق نہیں بلکہ اخلاق کے ساتھ تعلق ہے ان کی سزا میں شریعت نے اس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھا ہے کہ اس کے لئے ایسی سزا تجویز کی جائے جو اخلاق کی نگہداشت کرنے والی ہو۔اب بظاہر تو ظہار کا تعلق بندوں سے معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل اس کا تعلق اخلاق سے ہوتا ہے بندوں سے نہیں۔ظہار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو کہہ دے کہ تو میری ماں کی طرح ہے یا یہ کہہ دے کہ تو میری ماں ہے۔اگر اس جرم کا تعلق بندوں سے ہوتا تو پھر چاہیے تھا کہ تمام انسان اس کو برا مناتے مگر تمام انسان اس کو برا نہیں مناتے۔حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ ایک سکھ کو سمجھا رہے تھے کہ بیوی کو پیار میں آ کر بعض لوگ جو ماں کہہ دیتے ہیں اس طرح نہیں کہنا چاہیے۔یہ بہت بری بات ہے تو وہ سکھ کہنے لگا اس میں کیا حرج ہے؟ ماں کا رشتہ محبت کا ہوتا ہے۔اس لئے اگر اپنی محبت کے اظہار کے لئے بیوی کو ماں کہہ لیا جائے تو وہ ماں تھوڑی بن جاتی ہے۔اسی طرح انگریزوں میں تو یہ عام رواج ہے کہ وہ خصوصیت سے بیوی کے متعلق