فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 429

۴۲۹ ضمیمه ہوگئی۔اس لئے میں کھانا نہ کھا سکا۔میں آج کل شام کو کھانا نہیں کھایا کرتا بلکہ سحری کو کھاتا ہوں لیکن آج سحری کو بھی نہ کھا سکا۔اس وجہ سے بھی لمبی تقریر کرنا مشکل ہے۔تاہم میں کوشش کروں گا کہ جس قدر ہو سکے بیان کروں کیونکہ احباب دور دور سے آئے ہیں۔کفارہ کے بارہ میں رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء صفحه ۱۲ ۱۳۰) سوال :۔کفارہ ظہار کے احکام میں تحریر رقبہ کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے اور کفارہ یمین میں تحریر رقبہ کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے نیز کفارہ ظہار میں اطعام مساکین کا حکم صیام کے حکم کے بعد رکھا گیا ہے اور کفارہ یمین میں صیام کا حکم اطعام، کسوۃ اور تحریر رقبہ کے حکم کے بعد رکھا ہے۔پھر کفارہ بمبین میں اطعام کے بعد کسوہ کا ذکر کیا گیا ہے اور کفارہ ظہار میں یہ مذکور نہیں۔پھر قبل ان يتماسا کے الفاظ کفارہ ظہار میں دو دفعه صرف تحریر رقبہ اور صیام کے ساتھ آئے ہیں لیکن اطعام کے ساتھ اس کا ذکر نہیں۔پھر کفارہ ظہار کی پہلی آیت ذالکم تو عظون بہ میں اشارہ کرنے کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے اور دوسری آيت ذالك لتو منوا باللہ میں اشارہ کے لئے مفرد کا صیغہ استعمال کیا ہے۔پھر کفارہ ظہار میں شہرین متتابعین فرمایا ہے کہ ساٹھ روزے متواتر رکھے مگر کفارہ یمین میں متواتر کی شرط نہیں رکھی؟ جواب: - حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔اس میں باقی شقیں تو صرف تصوف کا رنگ رکھتی ہیں۔دراصل جو بڑا سوال ہے وہ صرف یہی ہے کہ کفارہ ظہار میں تحریر رقبہ کی سزا کو پہلے رکھا ہے اور باقی سزائیں یعنی صیام اور اطعام مساکین کو بعد میں رکھا ہے اور کفارہ بیبین میں پہلے اطعام کو رکھا ہے اور پھر کسوہ کو رکھا ہے اور تحریر رقبہ کا تیسرے نمبر پر ذکر کیا ہے اور پھر اس کے بعد روزوں کا ذکر کیا ہے۔غرض کفارہ ظہار میں پہلے تحریر رقبہ اس کے بعد روزے اور اس کے بعد کھانا اور کفارہ یمین میں پہلے کھانا پھر لباس پھر غلام کا آزاد کرنا اور پھر روزے رکھے گئے ہیں یعنی ایک تو ان سزاؤں کی ترتیب میں فرق ہے اور پھر ان سزاؤں میں بھی بعض میں اختلاف ہے اور بعض مطابق ہیں یعنی