فرموداتِ مصلح موعود — Page 426
۴۲۶ ضمیمه پیدا ہو گیا ہوتا تو تاریخ اسلام میں ضرور اس کا ذکر ہوتا کہ یہ تغیر مسلمانوں کے ہر ایک فرقے میں اور ہر ایک ملک میں کیونکر پیدا ہوا اور کب پیدا ہوا مگر ایسا کوئی ذکر نہیں ہے۔(الفضل ۲۱ /اکتوبر ۲۰۱۰ ء صفحه ۳) پانچوں نمازوں کے اوقات اور ان کی رکعات ”نماز مسلمانوں پر پانچ وقت فرض ہے۔ایک نماز صبح کی جس کا وقت پو پھٹنے سے لے کر سورج نکلنے کے وقت تک ہوتا ہے۔یعنی سورج نکلنے سے پہلے یہ نماز ختم ہو جانی چاہیے۔اس نماز کی دورکعت ہوتی ہیں۔ایک نماز سورج ڈھلنے سے لے کر انداز اپونے تین گھنٹے بعد تک پڑھی جاتی ہے۔گرمیوں میں یہ وقت ہندوستان میں کوئی تین گھنٹہ تک چلا جاتا ہے۔اس نماز کو ظہر کی نماز کہتے ہیں اور اس کی چار رکعت ہوتی ہیں۔اس کے بعد تیسری نماز کا وقت شروع ہوتا ہے۔یہ نماز دھوپ کے زرد ہونے کے وقت تک پڑھی جاسکتی ہے۔اسے عصر کی نماز کہتے ہیں اور اس کی بھی چار رکعت ہوتی ہے۔اس کے بعد سورج ڈوبنے سے لے کر شفق یعنی مغرب کی طرف کی سرخی کے غائب ہونے تک چوتھی نماز کا وقت ہوتا ہے اور اسے مغرب کی نماز کہتے ہیں۔اس کی تین رکعتیں ہوتی ہیں۔اس کے بعد پانچویں نماز کا وقت شروع ہوتا ہے جسے عشاء کی نماز کہتے ہیں۔اس کا وقت ہندوستان کے اوقات کے لحاظ سے غروب آفتاب سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد شروع ہوتا ہے اور نصف شب تک اور بعض کے نزدیک اس کے بعد تک بھی چلا جاتا ہے۔اس نماز کی رکعتیں بھی چار ہوتی ہیں۔“ جمعه کی دو سنتیں جمعہ سے قبل دورکعت کے متعلق فرمایا:۔( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحه ۱۱۳) بے شک یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر جمعہ کی نماز سے قبل دو رکعت پڑھیں لیکن ایک اور حدیث ہے جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم