فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 425

۴۲۵ ضمیمه سنتیں پڑھنی چاھئیں سماٹرا کے مربی حضرت مولوی رحمت علی صاحب نے عرض کیا۔سماٹرا میں لوگ عام طور پر سنتیں بالکل نہیں پڑھتے۔ان کے ترک پر کوئی عقاب نہیں ہاں جمعہ سے قبل دو رکعت پڑھتے ہیں جن کو تحیۃ المسجد کہتے ہیں۔چار سنتوں کی نسبت وہ کہتے ہیں سند کے لحاظ سے یہ احادیث ضعیف ہیں۔حضور نے فرمایا:۔احادیث کے متعلق ہمارا معیار تو یہ ہے کہ جو قرآن شریف اور سنت کے خلاف نہ ہوں ان کو صیح سمجھا جائے۔دوسرے ہمارا طریق سفن وغیرہ میں تو اتر پر ہے۔اگر کوئی بات سواحادیث سے ثابت ہو اور امت کا تعامل اس کے خلاف ہو تو ہم تعامل کو ہی ترجیح دیں گے کیونکہ احادیث ہم تک بالقول پہنچی ہیں اور تعامل بالفعل اور اسی تعامل کا نام سنت ہے، اسلام کے چاروں فرقوں حنفی ، شافعی، مالکی اور حنبلی کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے تیرہ سو سال کے تعامل سے جو بات ثابت ہو وہ یقینی ہے۔اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے سنن اگر احادیث سے ثابت نہ بھی ہوں تب بھی پڑھنی چاہئیں۔کیونکہ امت محمدیہ کا تیرہ سو سال کا تعامل اس پر شاہد ہے۔کروڑوں لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک ان پر عمل کرتے چلے آئے ہیں۔یہ تعامل خواہ اس کی تائید میں کوئی حدیث نہ ہو ایک زبر دست ثبوت ہے جس کے ماتحت سنن کا پڑھنا ضروی ہے۔اگر سواحادیث ایک امر کوضعیف قرار دیں مگر امت کا تعامل اس پر چلا آیا ہو تو امت کے اس تعامل کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ چند راویوں کی نسبت کروڑوں لوگوں کا تعامل بہت زیادہ معتبر ہے۔حضرت مسیح موعود نے شریعت میں پہلے قرآن کو رکھا ہے۔پھر سنت کو اور اُس کے بعد حدیث کو۔سنت وہ نہیں جو حدیث سے مستنبط ہو بلکہ سنت وہ ہے جو امت کے لاکھوں کروڑوں صلحاء کے تعامل سے ثابت ہو۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد سے لے کر آج تک کروڑوں لوگ نسلاً بعد نسل سنن پڑھتے چلے آ رہے ہیں اس لئے اس کا لحاظ رکھنا واجب ہے خواہ احادیث تائید کریں یا نہ کریں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں نہ پڑھی ہوتیں اور آپ کے بعد یک لخت یہ تغیر