فرموداتِ مصلح موعود — Page 406
۴۰۶ متفرق کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے۔مصور انسانی جذبات کا اظہار تصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل دکھاتا ہے۔اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔انبیاء کی تصویر اسی لئے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیرکٹر اپنے اندر گونا گوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کوئی مصور ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے۔مصور کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرے پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصور نہیں کر سکتا۔بالکل ممکن ہے ایک مصور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرے پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہوگی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہو گی۔حدیث میں جو تصویر کا ذکر آتا ہے اس سے مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اور عکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس نا جائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح پانی میں بھی عکس آجاتا ہے مگر اسے کوئی نا جائز نہیں کہتا۔ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔الفضل ۱۴ را پریل ۱۹۳۱ء صفحه ۶،۵- جلد ۱۸ نمبر (۱۱۹) سوال :۔ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ ایک احمدی نے مندرجہ ذیل فتوی دیا ہے۔”ہم تصویر کو بالکل ناجائز سمجھتے ہیں۔اگر مرزا صاحب کی تصویر کو خراب کیا جائے یا جلایا جائے تو کوئی گناہ نہیں۔یا خراب غلیظ جگہ پر پڑی ہو تو کوئی حرج نہیں سمجھتے۔“ کیا یہ فتویٰ صحیح ہے۔اگر نہیں تو اسے جماعت سے خارج کریں؟ جواب :۔ہماری جماعت فتویٰ دینے والی جماعت نہیں۔اگر کوئی شخص اپنے علم کی کمزوری کی وجہ