فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 398

۳۹۸ متفرق ہیں۔اس وقت ان کے باپ دادا کی عزت کا سوال تھا۔انہیں چاہئے تھا کہ وہ خاندانی روایات کو قائم رکھتے اور اپنے باپ دادا کے اچھے نمونہ کو قائم رکھتے لیکن انہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔(الفضل ۲۲ /اگست ۱۹۶۲ء صفحه ۳) مردوں کو ریشمی کپڑا پھننا منع ھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے زمانہ خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ بعض صحابہ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ریشمی کپڑوں سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں کسی قدر ریشم ہوتا ہے ورنہ خالص ریشم کے کپڑے تو سوائے کسی بیماری کے مردوں کو پہنے ممنوع ہیں۔تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان - صفحه ۵۷۰) سوال:۔کیا مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں؟ جواب :۔فرمایا۔ہاں مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں۔در حقیقت اسلام کا منشاء یہ ہے کہ وہ چیزیں جو کہ قیمت کے طور پر کام آتی ہیں ان کو روک کر اپنے پاس نہ رکھا جائے۔اگر لوگ سونے چاندی کو بند کر کے رکھ دیں تو تجارت پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور خزانوں میں سکے کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔اسی لئے اسلام نے سونے چاندی کے برتنوں سے منع کیا ہے۔اگر سونے چاندی کے برتن بنائے جائیں گے تو وہ گھر میں بند ہو جائیں گے اور اس کا سکوں پر بُرا اثر پڑے گا۔اگر سونے چاندی کو لوگ گھروں میں بند کر دیں گے تو صرف نوٹ ہی نوٹ سکہ کے طور پر رہ جائیں گے۔اس لئے اسلام نے مردوں کو تو بالکل منع فرمایا کہ وہ سونا پہنیں اور عورتوں کے ان زیورات پر جو وہ نہیں پہنتیں چالیسواں حصہ زکوۃ لگادی۔اس طرح چالیس و پچاس سال میں آہستہ آہستہ وہ سارا سونا خود بخود نکل آئے گا۔اور اگر ز کوۃ ادا نہیں کریں گی تو بے دین بنیں گی۔جو لوگ زکوۃ دیتے ہیں وہ خود محسوس کر لیتے ہیں کہ زکوۃ ہی ہمارا ساراسونا ختم کر دے گی۔میں نے