فرموداتِ مصلح موعود — Page 375
۳۷۵ حقه نوشی حقہ بہت بُری چیز ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ چھوڑ دینا چاہئے۔بعض لوگوں نے مجھے کہا ہے ہم نے ایسے ملہم دیکھے ہیں جو حقہ پیتے تھے اور ان کو الہام ہوتا تھا۔اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ حقہ پینے والے کو خدائی الہام ہوتے ہیں تو کہنا پڑے گا کہ وہ الہام اعلیٰ درجہ کے نہ ہوں گے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ لہسن کھا کر مسجد میں نہ آؤ۔اس کو بد بوکی وجہ سے فرشتے نہیں آتے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچا لہسن رکھا گیا تو آپ نے نہ کھایا۔صحابہ نے پوچھا رسول اللہ ہم نہ کھائیں۔فرمایا تم سے خدا کلام نہیں کرتا تم کھا سکتے ہو۔ان حدیثوں کے ہوتے ہوئے کس طرح مان لیں کہ حقہ پینے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں۔جبکہ حقہ کی بد بو لہسن سے بھی زیادہ خراب ہوتی ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حقہ سے کم بد بو والی چیز کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں اسے استعمال نہیں کرتا میرے پاس فرشتے آتے ہیں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر احتیاط کرتے تھے تو جو شخص الہام کا مدعی ہے یا جسے خواہش ہے کہ اُسے الہام ہو اُسے بھی حقہ سے بچنا چاہئے۔اور میں اس کی شکل دیکھنا چاہتا ہوں جو یہ کہے کہ مجھے الہام کی خواہش نہیں۔اگر کوئی ایسا شخص نہیں تو پھر کسی کو حقہ بھی نہیں پینا چاہئے۔(انوار العلوم جلد ۹۔منہاج الطالبین صفحہ ۱۶۳ ۱۶۴) غلاظتوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ بھی فرشتے تعلق نہیں رکھتے۔اسی دلیل میں حقہ پینے والے بھی آگئے۔حقہ پینے والے کو بھی صحیح الہام ہونا ممکن ہے۔انوار العلوم جلد ۵ - ملائکۃ اللہ - صفحه ۵۶۲) تمباکو نوشی سوال :۔ایک دوست نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔