فرموداتِ مصلح موعود — Page 367
۳۶۷ ذبیحہ اہل کتاب چونکہ دنیا میں انسان کو اپنے تمام طبعی جذبات ابھارنے اور ان کو ترقی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ ان کا بر محل استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکے۔اس لئے قرآن کریم نے ان غذاؤں کے استعمال سے منع فرمایا دیا ہے جس کا کوئی جسمانی، اخلاقی یا روحانی ضرر ظاہر ہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے مردار، خون اور سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔اسی طرح ہرایسی چیز کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔اب ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنے اندر بہت بڑے نقصانات نہ رکھتی ہو۔مُردار کو ہی لے لو۔اگر کوئی جانور مر جائے تو اس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو وہ بالکل بوڑھا ہوکر مرا ہے یاکسی زہر یلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے یا کسی بیماری اور زہر کے نتیجہ میں مرا ہے اور یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گوشت کو زہریلا اور نا قابل استعمال بنادیتی ہیں اور اگر وہ کسی سخت صدمہ سے مرا ہو مثلاً کنوئیں میں گر کر یا جانوروں کی باہمی لڑائی میں تب بھی اس کے خون میں زہر پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے گوشت کو نا قابل استعمال بنا دیتا ہے اور خون تو اپنی ذات میں ہی ایسی چیز ہے جو کئی قسم کی زہریں اپنے اندر رکھتا ہے اور طبی لحاظ سے اس کا استعمال صحت کو تباہ کر نے والا ہے۔یہی حال سور کے گوشت کا ہے اس کے استعمال سے بھی کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور پھر سور میں بعض اخلاقی عیوب بھی پائے جاتے ہیں جو اس کا گوشت استعمال کرنے والوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔اور جو چیز غیر اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کا استعمال انسان کو بے غیرت بنا دیتا ہے اور اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کا ادب دور کر دیتا ہے۔اسی طرح پینے کی چیزوں میں سے اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ وہ انسانی عقل پر پردہ ڈالتی اور اس کی ذہانت اور علم کو نقصان پہنچاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے جس قدر چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کی وجہ ان کی جسمانی یا اخلاقی یا روحانی مضرات ہیں اور صرف ایسی ہی اشیاء کا کھانا جائز قرار دیا ہے جو انسان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی ترقی کا موجب ہوں۔اور پھر حلال اشیاء میں سے بھی طیبات کے استعمال پر زیادہ زور دیا ہے یعنی ایسی اشیاء پر جو انسان کی صحت اور اس کی طبیعت کے مطابق ہوں اور جن کے استعمال سے اُسے کوئی