فرموداتِ مصلح موعود — Page 13
عقائد ونظریات بھی لکھا ہے کہ حضرت سخی قتل کئے گئے۔گو یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ الزامی طور پر لکھا ہے مگر یہاں الزام کی کوئی بات نہیں۔پس اصولی بات میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔یہ نبی ہی ہوتا ہے جو کہتا ہے یہ بات یوں ہے پھر خواہ وہ سمجھ میں نہ آئے مانی پڑتی ہے۔الفضل ۵ فروری ۱۹۲۴ء۔جلد۱۱ نمبر ۶۱) بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ سے چونکہ اختلاف جائز ہے اس لئے ہمیں ان سے فلاں فلاں بات میں اختلاف ہے۔میں نے ہی پہلے اس بات کو پیش کیا تھا اور میں اب بھی پیش کرتا ہوں کہ خلیفہ سے اختلاف جائز ہے مگر ہر بات کا ایک مفہوم ہوتا ہے۔اس سے بڑھنا دانائی اور عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔پس اختلاف کی بھی کوئی حد بندی ہونی چاہئے۔ایک شخص جو خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اسے سمجھنا چاہئے کہ خلفاء خدا مقرر کرتا ہے اور خلیفہ کا کام دن رات لوگوں کی راہ نمائی اور دینی مسائل میں غور و فکر ہوتا ہے۔اس کی رائے کا دینی مسائل میں احترام ضروری ہے۔اور اس کی رائے سے اختلاف اُسی وقت جائز ہوسکتا ہے جب اختلاف کرنے والے کو ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہو جائے کہ جو بات وہ کہتا ہے وہی درست ہے پھر یہ بھی شرط ہے کہ پہلے وہ اس اختلاف کو خلیفہ کے سامنے پیش کرے اور بتائے کہ فلاں بات کے متعلق مجھے یہ شبہ ہے اور خلیفہ سے وہ شبہ دور کرائے۔پس اختلاف کرنے والے کا فرض ہے کہ جس بات میں اسے اختلاف ہوا سے خلیفہ کے سامنے پیش کرے نہ کہ خود ہی اس کی اشاعت شروع کر دے ورنہ اگر یہ بات جائز قرار دی جائے کہ جو بات کسی کے دل میں آئے وہی بیان کرنی شروع کر دے تو پھر اسلام کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔اگر کوئی شخص اس طرح نہیں کرتا اور اختلاف کو اپنے دل میں جگہ دے کر عام لوگوں میں پھیلاتا ہے تو وہ بغاوت کرتا ہے۔اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔انوار العلوم جلد ۹، منہاج الطالبین صفحه ۱۶۳،۱۶۲)