فرموداتِ مصلح موعود — Page 358
۳۵۸ داڑھی ہو یہ اپنے اپنے ذوق پر منحصر ہے۔کسی کو اس میں دخل دینے کا اختیار نہیں۔اگر کوئی دخل دیتا ہے تو وہ شریعت میں دخل انداز ہوتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء کمپوز ڈایڈیشن۔صفی ۲۲۴) اب بہت سے لوگ شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے مبلغوں کی داڑھیاں چھوٹی ہوتی ہیں۔میں نے بھی یہ نقص دیکھا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ حضرت علیؓ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان داڑھی چھوٹی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لمبی داڑھی رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی لمبی داڑھی تھی۔اور میری داڑھی بھی لمبی ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی بڑی داڑھی تھی۔حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی بھی بڑی داڑھی تھی۔یہ مان لیا کہ حضرت علیؓ کی چھوٹی داڑھی تھی مگر ممکن ہے اس کی وجہ ان کی کوئی بیماری ہو یا کوئی اور وجہ۔اور اگر یہ بات نہ بھی ہو تب بھی کیوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل نہ کی جائے اور حضرت علی کی نقل کی جائے۔بہر حال داڑھیوں میں نقص ہے۔الفضل ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۱۱۔خطبہ جمعہ فرمود ۱۱ جنوری ۱۹۳۵ء) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں داڑھی منڈانے کا رواج تھا مگر آپ نے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا۔اس کے آپ نے کوئی ایسے فوائد بیان نہیں کئے جو بظاہر نظر آتے ہوں بلکہ صرف یہ فرمایا کہ دوسرے منڈاتے ہیں اس لئے تم رکھو۔اس کے علاوہ آپ نے کوئی ایسی بات نہیں بیان فرمائی کہ ہم کہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حکم کی پابندی اس زمانہ میں ضروری نہیں۔لیکن اس کا ظاہری فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک مسلمان دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے۔گویا یہ بطور نشان اور علامت کے ہے۔پھر اس کے علاوہ یہ فائدہ بھی ہے کہ ظاہری مشارکت قلبی اتحاد کی تقویت کا موجب ہوتی ہے۔۔۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ کیا داڑھی میں اسلام ہے؟ میں نے کہا ہرگز نہیں مر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں یقیناً اسلام ہے۔