فرموداتِ مصلح موعود — Page 359
۳۵۹ جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کو مدنظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکم یا نیم حکم سے داڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو دارڑھی رکھنی چاہے ہاں اس صورت میں داڑھی نہ رکھنے کی اجازت ہوسکتی ہے کیونکہ سرکاری ملازمتوں کے لحاظ سے بھی ہمیں جماعت کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔مگر یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے۔اس لئے اس حالت والے کو چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو داڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہوں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کر دیا جائے۔اسے کوئی صحیح الدماغ انسان جبر نہیں کہہ سکتا۔الفضل ۹ / اکتوبر ۱۹۳۰ ء - جلد ۱۸ نمبر ۳۴ صفحه ۷،۶۔خطبه جمعه فرموده ۳ اکتوبر ۱۹۳۰ء) سوال :۔انگریزی بال رکھنے چاہئیں یا نہیں ؟ میں نے کٹوا دیئے ہیں لیکن دل سخت بے چین ہے؟ جواب :۔ایسے بال رکھنے نا پسندیدہ ہیں۔ان باتوں میں رکھا کیا ہے کہ ان کے کاٹنے سے آپ کا دل بے چین ہو گیا۔الفضل ۱۶ جولائی ۱۹۲۸ء۔جلد ۱۶ نمبر ۲ صفحہ ۵) حافظ نور احمد صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا کہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے تذکرۃ المہدی میں سرمنڈانے کو منافق کی نشانی بتلایا گیا ہے۔میں پہلے سر پر بال رکھا کرتا تھا مگر اب منڈوا دیا ہے آیا پھر مثل سابق بال رکھ لوں یا منڈالوں؟ جواب :۔فرمایا۔وہاں سرمنڈانے سے مراد استرے سے منڈوانا ہے۔بال کتر و الینا نہیں۔با الفاظ راقم ) الفضل ۲۸ نومبر ۱۹۱۵ء۔جلد ۳ - نمبر ۶۵ صفحه۲)