فرموداتِ مصلح موعود — Page 344
۳۴۴ پرده عورتیں آئیں جن کے متعلق اس قسم کا کوئی خطرہ نہ ہو۔اور ان کے حالات سے پوری واقفیت ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتوں کے متعلق بھی پہلے تحقیق کرلیا کرو کہ ان کا چال چلن کیسا ہے اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو پھر انہیں گھر میں آنے کی اجازت دو اور یہی نِسَاء هِنَّ سے مراد ہے یعنی وہ عورتیں جو تمہارے گھروں میں آئیں ایسی دیکھی بھالی ہوں کہ گویا تمہاری اپنی ہی عزیز ہوں۔( تفسیر کبیر جلد ششم سوره نور - صفحه ۳۰۲) پردے کی قسمیں حکم قرآنی یہ ہے کہ عورتوں کے لئے خدا کی طرف سے پردہ مقرر کیا گیا ہے جو حالات کے ماتحت تین قسم کا ہے۔ا۔ان عورتوں کا پردہ جن کو کام کاج کے لئے مجبوراً نکلنا پڑتا ہے۔بغیر باہر نکلنے اور روزی کے کچھ کام کرنے یا خاوند کو روزی میں مدد دئیے بغیر کنبہ کا گزارہ نہیں ہوسکتا۔ایسی عورتوں کے لئے جائز ہے کہ کام کاج کے وقت ہاتھوں اور پاؤں کو اور ماتھے سے لے کر ٹھوڑی اور کانوں کے سامنے تک چہرہ کو ننگا کرلیں۔۲۔اس سے اوپر کے درجہ کی عورتیں جن کو کام کاج کے لئے مجبوراً باہر نکلنا پڑتا وہ تمام جسم کو چھپا دیں سوائے قد اور چال کے جو مجبور ظاہر ہوتے ہیں۔۳۔تیسرا درجہ امہات المومنین کا ہے کہ وہ اکثر گھر سے باہر نہ نکلا کریں۔(الفضل کیکم ستمبر ۱۹۲۱ء۔جلد ۹۔نمبر ۷ صفحہ ۹) ایک دوست کو لکھوایا کہ پردہ ان عورتوں کے لئے جو کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں صرف جسم کا پردہ ہے۔آنکھیں اور ناک کھلے رکھ کر اگر کام کرنے چاہیں تو کچھ حرج نہیں۔الفضل ۹ رمئی ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۳۷ صفحه ۲)