فرموداتِ مصلح موعود — Page 343
بیٹھے، بے تکلف نہ ہو۔۳۴۳ پرده الفضل ۷ار جولائی ۱۹۳۸ء۔جلد ۲۶ نمبر ۱۶۲ صفحه ۲) بوڑھی عورتیں اور پردہ وَ الْقَوَاعِدُ مِنِ النِّسَاءِ الَّتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ۔۔۔۔۔( النور :٢١) جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پر دہ چھوڑ دیں تو جائز ہے۔ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلیں۔یعنی پردہ ایک عمر تک ہے اس کے بعد پردہ کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے پردہ کے احکام کو ایسی بری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں پردہ چھوڑ رہی ہیں۔اور بوڑھی عورتوں کو جبراً گھروں میں بٹھایا جا رہا ہے۔ہمارے ملک کے لحاظ سے ساٹھ سالہ اور یورپ کے لحاظ سے ستر پچھتر سالہ عورت پر اس اجازت کا اطلاق ہوسکتا ہے کیونکہ اس عمر میں بوڑھی عورتوں کے لئے چلنا پھرنا مشکل ہوتا ہے اور پھر پردہ کے کپڑوں کو سنبھالنا تو ان کی مشکل کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔لیکن شریعت پھر بھی یہی کہتی ہے کہ اگر وہ پردہ کو قائم رکھیں تو نتائج کے لحاظ سے یہ زیادہ بہتر بات ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورہ نور صفحه ۳۹۷) عورتوں کاعورتوں سے پردہ کرنا اَوْ نِسَاءِ هِنَّ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض عورتوں سے بھی پردہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہر ملک میں یہ رواج ہے اور ہمارے ملک میں بھی تھا گواب کم ہو گیا ہے کہ بدچلن لوگوں نے آوارہ عورتیں رکھی ہوئی ہیں جو گھروں میں جا کر آہستہ آہستہ عورتوں کو ورغلاتی اور انہیں نکال کر لے جاتی ہیں۔اس قسم کی عورتوں کو روکنے کے لئے شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر عورت کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔بلکہ وہی