فرموداتِ مصلح موعود — Page 329
۳۲۹ معاملات ذمہ داری اور اس کے چلانے کے اختیار میں پالیسی ہولڈر شریک نہیں۔ہم اسے قرض ہی قرار دے سکتے ہیں اور حقیقت یہ ہوتا بھی قرض ہی ہے کیونکہ اس روپیہ کو انشورنس والے اپنے ارادہ اور تصرف سے کام پر لگاتے ہیں اور انشورنس کے کام میں گھانا ہونے کی صورت میں روپیہ دینے والے پر کوئی ذمہ واری نہیں ڈالتے۔پس یہ قرض ہے اور جس قرض کے بدلہ میں کسی قبل از وقت سمجھوتہ کے ماتحت کوئی نفع حاصل ہوا سے شریعت اسلامیہ کی رو سے سود کہا جاتا ہے۔پس انشورنس کا اصول ہی سود پرمبنی ہے۔۳۔تیسرے انشورنس کا اصول ان تمام اصولوں کو جن پر اسلام سوسائٹی کی بنیا درکھنا چاہتا ہے باطل کرتا ہے۔انشورنس کو کلی طور پر رائج کر دینے کے بعد تعاون باہمی ، ہمدردی اور اخوت کا مادہ دنیا سے مفقود ہو جاتا ہے۔الفضل ۱۸ ستمبر ۱۹۳۴ء - جلد ۲۲ نمبر ۳۲ صفحه ۵) فرمایا۔بیمہ کی وہ ساری کی ساری اقسام جو اس وقت تک ہمارے علم میں آچکی ہیں نا جائز ہیں۔ہاں اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصان میں شامل ہوگا تو پھر بیمہ کرانا جائز ہوسکتا ہے۔ہاں ایک طرح کا بیمہ جائز ہے اور وہ یہ کہ مجبوراً کرانا پڑے جیسے بعض محکموں میں گورنمنٹ نے ضروری کر دیا ہے کہ ملازم بیمہ کرائیں۔یہ چونکہ اپنے اختیار کی بات نہیں ہوتی اس لئے جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ موجود ہے۔آپ نے فرمایا ہے پراویڈنٹ فنڈ جہاں مجبور کر کے جمع کرایا جاتا ہے وہاں اس رقم پر جو زائد ملے وہ لے لینا چاہئے۔الفضل کے جنوری ۱۹۳۰ء۔جلد ۱۷ نمبر ۵۳ صفحه ۴) سوال :۔کیا شریعت میں زندگی بیمہ کرانے کا کوئی جواز ہے یا نہیں۔یعنی زندگی کو انشورنس کرنا جائز ہے یا نا جائز ؟ جواب :۔فرمایا۔بیمہ کی موجودہ کمپنیوں سے ان کے طریق پر تو ناجائز ہے لیکن بیمہ ایک نئی اصطلاح ہے اگر کوئی کمپنی ایسے قانون بنائے جو اسلام کے مطابق ہوں تو وہ جائز ہو جائیں گی۔(فائل مسائل دینی DP 709/29۔11۔55-32-A)