فرموداتِ مصلح موعود — Page 325
۳۲۵ معاملات جواب: فرمایا۔کیوں کا کیا سوال ہے۔شریعت کا فیصلہ یہی ہے کہ وارث نہیں ہوگا۔لیکن اگر وہ ورثہ سے حصہ نہیں لے سکتا تو داد اپنے تیسرے حصہ سے اس کے متعلق کیوں وصیت نہیں کر دیتا جس کا خدا نے اسے حق دیا ہے۔کیا اسے پتہ نہیں کہ اس کا بیٹا مر چکا ہے۔جب وہ جانتا ہے تو وہ کیوں اسی وقت اپنے ورثہ میں سے اس کے متعلق وصیت نہیں کر دیتا۔جبکہ وہ جائیداد کا تیسرا حصہ وصیت میں دے سکتا ہے۔ایک خط کے جواب میں لکھوایا :۔( الفضل ۱۶ / اپریل ۱۹۶۰، صفحه ۵) ایسے پوتوں کو ورثہ دینا جن کے باپ اپنے والد کی زندگی میں فوت ہو چکے ہوں شرعی لحاظ سے ضروری قرار نہیں دیا گیا۔البتہ وصیت کے قانون کے ماتحت سفارش کی تھی۔سو اس کے متعلق تحریک تو کی جاسکتی ہے مگر جبری انتظام نہیں کیا جا سکتا سوائے اس کے کہ مزید تحقیق کے نتیجہ میں مسئلہ کی صورت دوسری ثابت ہو۔فائل مسائل دینی A-18۔5۔59-32 ) عاق کرنا جائز ھے عاق کرنا جائز ہے۔لیکن اس کی بنیاد ایسے امور پر ہونی چاہئے جس میں شریعت بچے کو عاق کرنا جائز قرار دیتی ہو مثلاً اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ میرا بیٹا چوری ،شراب خوری، جوئے بازی کرتا ہے اور کنچیوں وغیرہ پر روپیہ ضائع کر رہا ہے اور اس کی اس کی تمام حرکات مذہب اور سوسائٹی کے اصل کے خلاف ہیں تو وہ اس کو عاق کر سکتا ہے۔الفضل ۲۵/اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحہ ۴۔خطبہ جمعہ فرموده ۹/جون ۱۹۴۷ء) سوال :۔ایک شخص کا لڑکا بالغ جو مسیح موعود علیہ السلام کو جھوٹا نبی تصور کرتا ہے اور مسیح موعودعلیہ السلام کو برا جانتا ہے آیا اس کو عاق لکھنا اور کل جائیداد سے بے دخل کرنے کا حکم ہے؟ جواب:۔اس میں حکم کا تعلق نہیں۔ایک شخص جو ہم سے عقیدہ میں اختلاف رکھتا ہے اس سے