فرموداتِ مصلح موعود — Page 311
۳۱۱ معاملات روپیہ کمانے کے لئے انہیں جدو جہد نہیں کرنی پڑے گی۔گویا ایک طرف تو وہ دوسرے لوگوں کو برباد کرتے ہیں اور دوسری طرف خود اپنے مال سے بھی صحیح رنگ میں فائدہ نہیں اٹھاتے کیونکہ روپیہ کمانے کے لئے انہیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔پھر جو ا عقل و فکر کو بھی کمزور کر دیتا ہے اور جوئے باز ہار جیت کے خیال سے ایسی چیزوں کے تباہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جنہیں کوئی دوسراعظمند تباہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔پس یہ ایک لغو چیز ہے جس سے اجتناب کرنا چاہئے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان - صفحہ ۵۸۸،۵۸۷) اسلام نے جوئے کو حرام قرار دے دیا کیونکہ اس کے ذریعہ بھی انسان ایسے طور پر کماتا ہے جس سے بہت لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور صحیح تجارت سے رغبت ہٹ جاتی ہے۔لاٹریاں بھی اسی میں شامل ہیں۔آجکل مسلمان یہ کام کرتے ہیں مگر یہ بھی جوئے میں شامل ہے اور جؤا نا جائز ہے۔خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔خواہ قرعہ ڈال کر کھیلا جائے یا نشا نہ مار کر کھیلا جائے۔اسلام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔لاٹری سے کمایاہوا روپیه ( الفضل ۲ جولائی ۱۹۵۹ء صفه ۳) مولوی رحمت علی صاحب نے عرض کیا۔ایک شخص لاٹری کے ذریعہ سے لاکھ روپیہ حاصل کرتا ہے۔اگر وہ اس میں سے پچیس ہزار روپیہ مجھے مدرسہ یا کسی اور نیک کام کے لئے دے تو میرے لئے اس نیک کام پر اس روپیہ کا خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب :۔حضور نے فرمایا۔اگر آپ کی لاٹری جیتنے والے کے ساتھ کسی قسم کی شرکت نہیں تو جائز ہے۔الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۴۰ صفحه ۶)