فرموداتِ مصلح موعود — Page 305
۳۰۵ معاملات مقرر کرتا ہے جو محض روپیہ کے معاوضہ میں حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ گھاٹے کا عقلاً امکان نہیں ہوتا۔یہ مالی فائدہ مدت معینہ پر پہلے سے مقدار جنس یا رقم کی صورت میں معین ہوتا ہے۔( الفضل ٢ / مارچ ۱۹۶۱ء صفحریم ) (فیصلہ قضاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۳۔نمبر ۲) سودی لین دین مولوی رحمت علی صاحب نے کہا سماٹرا کے علماء سود کا لین دین کرتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے ادارے قائم کئے ہیں۔وہ کہتے ہیں قرآن شریف میں اضعافاً مضاعفہ“ ہے یعنی بڑھ چڑھ کر اور دُگنا تگنا سود نہ لو۔تھوڑا سود بنک والا منع نہیں؟ حضور نے فرمایا اگر اضعاف کے معنی دگنے کے ہیں تو لِكُلّ ضعف “ کے کیا معنی ہوں گے۔اصل بات یہ ہے کہ عرب میں اس زمانہ میں دو قسم کا سود رائج تھا۔ایک یہ کہ غرباء اپنی اشد ضرورت کے لئے سود لیتے تھے تو سا ہو کا راپنی حسب منشاء جس قدر چاہتے سود منوا لیتے۔بیچارے غرباء اپنی ضرویات کی وجہ سے مجبور ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا کہ سودخواہ تھوڑا ہو یا بہت ہمیشہ بڑھتا ہی 66 رہتا ہے جب تک رو پیدا دا نہ کیا جائے۔پس اضعافاً مضاعفة “ سے دو چند سہ چند مراد نہیں بلکہ بڑھنا مراد ہے اور لا تاكلوا الربو اضعافا کا یہ مطلب ہے کہ ایمان والوسود بالکل نہ لو۔دوسرا سود تجارتی کاروبار کے لئے لیا جاتا تھا چونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے جانتا تھا کہ آخر زمانہ میں ایک بنکوں والا سود بھی جاری ہوگا۔اس کے لئے قرآن شریف میں ایک الگ آیت نازل کی کہ لِيَرْبُوا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرُبُوا عِندَ اللَّهِ کہ اس طریق سے جو لوگ اپنے اموال بڑھاتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں۔الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۴۰ - صفحه ۶) سوال:۔کیا سود لینا جائز ہے۔ہندو ہم سے سود لیتے ہیں اگر ہم نہ لیں گے تو ہمارا سارا مال