فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 298

۲۹۸ معاملات کر کے کچھ بیعانہ بھی دے دیتا ہے تو کیا یہ سٹہ ہوگا ؟ جواب :۔حضور نے فرمایا۔یہ سٹہ نہیں ، یہ سودا ہے اور اس میں گندم موجود ہے جس کا سودا کیا گیا ہے۔سٹہ میں یہ نہیں ہوتا۔اُس میں تو چیز کے ہونے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔اگر کوئی فصل نکلنے سے پہلے نرخ مقرر کر لیتا ہے ایسا نرخ جو امکان کے اندر اندر ہو اگر غیر معمولی طور پر نرخ بڑھاتا ہے تو یہ لغو ہوگا ) اور جتنی رقم کا غلہ خریدنا چاہے وہ پیشگی دے دے تو یہ جائز ہے اور یہ بیع سلم ہے۔اسی طرح غلہ دینے والا اگر یہ کہے کہ جیسی بھی گندم ہوگی چاہے خراب ہو چا ہے اچھی۔وہ لینی ہوگی تو یہ ناجائز ہوگا۔دراصل غیر معین چیز کا سودا کرنا نا جائز ہے۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر غلہ کا ڈھیر پڑا ہو اور غلہ والا خریدار سے کہے کہ یہ جو غلہ پڑا ہے یہ لیتے ہوتو یہ نا جائز ہے۔آپ نے ایک دفعہ غلہ کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر اندر غلہ نکال کر دکھایا کہ وہ گیلا تھا۔بیع سلم میں پہلے یہ بات طے ہو جانی چاہئے کہ اس قسم کی گندم دی جائے گی سفید یا سرخ اور خرید نے والا سارا روپیہ پہلے دے دے اور اگر وہ اس وقت تھوڑا روپیہ دے تو شرط یہ ہو کہ غلہ نکلنے کے وقت جو منڈی کا بھاؤ ہو گا وہ لوں گا اس طرح گویا اس کی غرض سودا کرنا ہوگی۔الفضل ۳۰ مئی ۱۹۳۳ء - جلد ۲۰ نمبر ۱۴۲ صفحه ۹) اجاره و احتکار جب فتح خیبر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین اپنے خاندان کے لئے وقف کر دی جس سے ان کے گزارہ کا سامان ہوتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں پر خود کام نہیں کرتے تھے بلکہ جس طرح اجارہ پر زمین دی جاتی ہے وہ زمین دوسروں کو دے دی گئی تھی اور اس سے جو حصہ آتا تھا وہ آپ خاندان میں تقسیم کر دیتے تھے۔الفضل ۶ / جنوری ۱۹۶۰ء صفحه ۲ خطبه جمعه فرموده ۱۹ اگست ۱۹۴۹ء) سوال :۔موجودہ طریقہ تجارت میں بعض اشیاء کو اس کے موسم پر سٹاک کر کے اس کے بعد