فرموداتِ مصلح موعود — Page 297
۲۹۷ معاملات فسخ بيع یہ مسئلہ کوئی شرعی نہیں بلکہ اس کا فیصلہ عرف عام پر ہوسکتا ہے۔اگر مشتری جان بوجھ کر دیر کرے جس سے بائع کا نقصان ہونا ممکن ہو تب اس پر ہر جانہ ڈالا جاسکتا ہے یا بعض حالات میں بیع فسخ کی جا سکتی ہے لیکن جب دیر صرف بارہ تیرہ گھنٹہ کی ہے کیونکہ اگر وہ اس دن صبح بھی آجاتے تب بھی رجسٹری کروا سکتے تھے۔اور آتے ہی انہوں نے مکان کی خرید پر آمادگی ظاہر کی ہے اس لئے یہ دیر نہ تو جان بوجھ کر کی گئی ہے اور نہ اس نے بائع کا حقیقتاً کوئی نقصان ہوا ہے۔اس لئے بیع قائم ہے اور بائع پر اپنی شرط پوری کرنی واجب ہے۔معاهده مضاربت (فائل فیصلہ جات نمبر ۲۔دارالقضاء، ربوہ ) اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اس معاہدہ کے تحت روپیہ دے کہ وہ اسے تجارت پر لگائے اور جو نفع ہو وہ ایک معین نسبت سے ( مثلاً نصف نصف) باہم تقسیم ہو اور اگر نقصان ہوتو کام کرنے والے کی محنت ضائع اور روپیہ دینے ولے کا اسی قدر روپیہ ضائع ہوگا۔تو کاروبار کی یہ صورت مضاربت یا قراض کہلاتی ہے جو اسلام میں جائز ہے۔اس میں روپیہ دینے والے کا اس روپیہ پر تصرف جاری رہتا ہے۔جس تصرف کے لئے تفصیلی شرایط فریقین کے درمیان طے کی جاسکتی ہیں۔قرض میں یہ تصرف والی صورت نہیں ہوتی۔الفضل ٢ / مارچ ۱۹۶۱ء) فیصلہ افتاء جسے حضور نے منظور فرمایا۔فیصلہ نمبر ۳۔نمبر ۳) بیع سلم سوال :۔اگر کوئی شخص کسی سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ تیرا جتناغلہ ہوگا وہ میں خریدلوں گا اور بھاؤ مقرر