فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 290

۲۹۰ حدود ثبوت کے بغیر دعویٰ قابل قبول نھیں الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ (النور : ۲۷) بعض لوگ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہیں لیکن یہ معنے واقعات کے بھی خلاف ہیں اور عقل کے بھی خلاف ہیں۔قرآن کریم نے حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کو مجرم قرار دیا ہے تو کیا حضرت لوط اور حضرت نوح کو بھی مجرم قرار دیا جائے گا۔یہ آیت در حقیقت ایک عام قانون پر مشتمل ہے اور اس میں بتلایا گیا ہے کہ الزام قبول کرنے سے پہلے ملزم کی عام حیثیت کو دیکھ لو اگر وہ عام طور پر نیک سمجھا جاتا ہے تو بادی النظر میں الزام کو فوراً جھوٹا قرار د ید و۔اسی طرح یہ بھی دیکھ لو کہ الزام لگانے والے کن اخلاق کے آدمی ہیں اور آیا وہ گواہ عادل ہیں یا نہیں۔اگر وہ راستباز نہ ہوں یا ان کی دماغی کیفیت قابل تسلی نہ ہو تو ان کی گواہی کو کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔تاریخ قضاء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے امام ابن تیمیہ کے خلاف ایک دعویٰ کیا۔قاضی نے آپ کے خلاف سمن جاری کر دیا۔اتفاقاً آپ اس سے ملنے چلے گئے۔قاضی نے اُن سے ذکر کیا کہ ایسا ایسا دعوئی آپ کے خلاف ہوا ہے اور میں نے سمن جاری کیا ہے۔امام ابن تیمیہ نے کہا کہ آپ نے قرآن وحدیث کے خلاف کیا ہے۔آپ کو سمن جاری کرنے سے پہلے معاملہ کی تحقیق کرنی چاہئے تھی کیونکہ میری شہرت اس الزام کے خلاف ہے۔پس چاہئے تھا کہ آپ مدعی سے ثبوت طلب کرتے اور اگر کوئی معقول ثبوت اس کے پاس ہوتا تو پھر بے شک مجھے اپنی برات پیش کرنے کے لئے بلاتے۔قاضی نے ان کی اس دلیل کو قبول کر لیا اور ان کے سمن کو منسوخ کر دیا۔( تفسیر کبیر جلد ششم تفسیر سوره النور - صفحه۲۹۱،۲۹۰)