فرموداتِ مصلح موعود — Page 277
۲۷۷ حدود الزام لگانے والوں سے ہمدردی کو بھی سخت جرم قرار دیا اور الزام سنتے ہی اس کو جھوٹا قرار دینے کی نصیحت کی۔( تفسیر کبیر جلد ششم - تفسیر سوره نور صفحه ۲۶۳) والذين يرمون المحصنت ثم لم ياتوا باربعة شهداء (النور :۵) اس آیت میں الزام زنا کی شہادت کا طریق بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے پر زنا کا الزام لگانے والا چار گواہ لائے جو اس الزام زنا کی تصدیق کرتے ہوں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے اقوال سے ثابت ہے کہ اگر گواہ مختلف جگہوں کے متعلق شہادت دے رہے ہوں تو وہ شہادت ہرگز تسلیم نہیں کی جائے گی۔اور چاہے وہ چار گواہ ہوں پھر بھی وہ ایک ہی جگہ کے متعلق الزام لگانے والے کے علاوہ چار عینی شاہد ہوں اور دوسرے ان کی گواہی اتنی مکمل ہو کہ وہ اس کی تکمیل کی شہادت دیں۔فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ چاروں گواہ یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد و عورت کو اس طرح اکھٹے دیکھا ہے جس طرح سرمہ دانی میں سلائی پڑی ہوتی ہے۔فقہاء کے نزدیک مجرم پر حد زنا تین طرح لگتی ہے۔اول قاضی کے علم سے۔دوئم اقرار سے۔سوئم چار گواہوں کی شہادت سے۔مگر قاضی کے علم سے حد لگانا میرے نزدیک قرآن کریم کی رو سے غلط ہے کیونکہ قاضی بہر حال ایک شاہد بنتا ہے لیکن قرآن کریم کی رو سے پانچ شاہد ہونے چاہئیں۔ایک الزام لگانے والا اور چار مزید گواہ بلکہ میرے نزدیک اگر قاضی کو کوئی ایسا علم ہو تو اسے مقدمہ سننا ہی نہیں چاہئے۔بلکہ اس مقدمہ کو کسی دوسرے قاضی کے پاس بھیج دینا چاہئے اور خود بطور گواہ پیش ہونا چاہئے۔قاضی صرف امور سیاسیہ میں اپنے علم کو کام میں لاسکتا ہے حدود شرعیہ میں نہیں۔کیونکہ حدود شریعہ کی سزا خود خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہوئی ہے۔اسی طرح گواہی کا طریق بھی مقرر کردہ ہے۔اقرار کے متعلق بھی یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ اقرار وہ ہے جو بغیر جبر اور تشدد کے ہو ورنہ پولیس کئی دفعہ مار پیٹ کر بھی اقرار کروا لیتی ہے۔حالانکہ وہ اقرار جبر کا نتیجہ ہوتا ہے۔پھر یہ اقرار ایک دفعہ کافی نہیں بلکہ