فرموداتِ مصلح موعود — Page 274
۲۷۴ حدود سوال: - والتي ياتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن اربعة منكم فان شهدوا فامسكوهن۔(النساء :۱۴) میں فاحشہ چار مرد گواہوں ، عورتوں کو گھروں میں رکھنا اور يجعل الله لهن سبیلا کے الفاظ سے کیا مراد ہے؟ جواب :۔فاحشہ سے مراد ایسی برائی کے بھی ہوتے ہیں جو عریاں ہو اور نمایاں طور پر بری نظر آئے اور ضروری نہیں کہ یہ برائی زنا ہی ہو۔بلکہ ہر بداخلاقی، بدکلامی اور بد معاملگی مخش کہلا سکتی ہے۔جو عورت بہت زیادہ بد کلام ہوا سے عربی میں فاحشہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی عورت اگر بعض بُرے اخلاق میں انتہاء کو پہنچ چکی ہو تو اس کا علاج یہ ہے کہ اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے لیکن جب اس کی مرض لا علاج صورت اختیار کر چکی ہو تو پھر اسے گھر میں مقید رکھنا بہتر ہوگا۔حتی کہ یا تو ایسی حالت میں اسے موت آجائے یا پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے ہدایت دیدے اور اس کے اخلاق درست کر دے۔الفضل ۳ جولائی ۱۹۴۷ء نمبر ۱۵۶ صفحه ۲) الزام زنا میں شہادت سوال:۔ایک صاحب نے الزام زنا کے متعلق شہادت اور اس کے اثرات وغیرہ کے متعلق استفسار کیا ہے؟ جواب:۔فرمایا۔دنیا کی سزا اصل میں فتنہ کو روکنے کے لئے ہے وگرنہ اصل سزا ”مالك يوم الدين “ کا کام ہے۔اسلام نے دنیا میں سزا صرف اس لئے رکھی ہے کہ فتنہ کا سد باب ہو جائے اور جس جگہ فتنہ مکمل نہ ہو وہاں سزا دینے کا کوئی حق نہیں۔اگر الزام زنا میں چار گواہ شہادت دے دیں تو خواہ ملزم بے گناہ ہی ہوا سے سزا دیدی جائے گی۔کئی مقدمات ایسے ہوتے ہیں کہ مجسٹریٹ مجرم سمجھ کر سزا دے دیتا ہے اور سزا دہی کے لئے شہادت بھی کافی ہوتی ہے مگر حقیقت میں سزا پانے والا بے گناہ ہوتا ہے۔بعض جرائم ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں ایک شاہد کا فی ہوتا