فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 263

۲۶۳ لونڈی اور غلام اسلام نے جنگ کی اجازت کن حالات میں دی ان آیات سے جو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دینے کے لئے نازل ہوئی ہیں ظاہر ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے جنگ کی اجازت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی قوم دیر تک دوسری قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اسے ربنا الله“ کہنے سے روکے۔یعنی اس کے دین میں دخل دے اور وہ جبراً اسلام سے لوگوں کو پھرائے یا اس میں داخل ہونے سے جبر أبا زر کھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے۔اس قوم کے سوا کسی دوسری قوم سے جہاد نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر جنگ ہوگی تو صرف سیاسی اور ملکی جنگ ہوگی۔جو وہ مسلمان قوموں میں ہوسکتی ہے مگر اس کا نام جہاد نہیں رکھا جاسکتا اور اس جنگ میں شامل ہونا ہر مسلمان کا فرض نہیں ہوگا بلکہ صرف انہی مسلمانوں کا فرض ہوگا جو اس لڑنے والی حکومت میں بس رہے ہوں۔کیونکہ یہ جنگ حب الوطنی کی جنگ کہلائے گی۔دینی جنگ نہیں کہلائے گی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔حبّ الوطن من الايمان یعنی وطن کی محبت بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔نفسیر کبیر جلد ششم تفسیر سوره حج - صفه ۶۳) جنگی قیدیوں کے متعلق اسلام کے احکام ا۔یا تو ان قیدیوں کو احسان کر کے چھوڑ دیا جائے (سورہ محمد ) اور یہ ایسے قیدیوں کے متعلق ہی ہوسکتا ہے جو اپنی غلطی کا اقرار کریں اور آئندہ جنگ میں شامل نہ ہونے کا معاہدہ کریں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قیدی ابو عزہ نامی کو رہا کیا۔یہ شخص جنگ بدر میں پکڑا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے عہد لے کر چھوڑ دیا تھا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہو گا۔مگر وہ جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف پھر لڑنے نکلا اور آخر جمراء الاسد کے جنگ میں مارا گیا۔