فرموداتِ مصلح موعود — Page 253
۲۵۳ خلع ہوئے نکاح کے بعد جب لڑکی بالغ ہو تو اس حق رضا مندی کو اسے واپس نہ دیا جائے۔الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۹ء۔جلد ۱۷۔نمبر ۳۳ صفحه ۲۱) خیار بلوغ یہ امر کے ماں کے کئے ہوئے نکاح کے متعلق لڑکی کو یار البلوغ حاصل نہیں ہے میرے نزدیک درست نہیں۔میرے نزدیک لڑکی کو شریعت نے رضا کا حق دیا ہے اور جب وہ بالغ ہو جائے اس وقت اس کا حق اس کو مل جائے گا کوئی نکاح کرے۔لڑکی بالغ ہو کر اس حق کو جو اسے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت دیا ہے طلب کر سکتی ہے اور کوئی انسانی فقہ اس حق کو اس سے چھین نہیں سکتی۔گورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی کوئی روایت ثابت نہیں کہ نابالغ لڑکی کا نکاح ماں باپ نے کر دیا ہو اور آپ نے لڑکی کی درخواست پر اسے توڑ دیا ہو۔لیکن یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بالغ لڑکی کا نکاح اس کے باپ نے بلا اجازت کردیا اور آپ نے اسے توڑ دیا۔چنانچہ ابن عباس سے احمد ابوداؤد اور ابن ماجہ میں جابر ، حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن بریدہ سے یہ بات روایت کی گئی ہے۔پس جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کی رضا کو ایسا ضروری سمجھا ہے کہ اس کی فریاد پر باپ کے کئے ہوئے نکاح کو تو ڑ دیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس حق کو نکاح صغر سے باطل کر دیا جاوے۔جب وہ اس حق کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گی اس کو یہ حق دیا جاوے گا۔(فائل فیصلہ جات خلیفہ وقت نمبر ۲ - صفحه ۱۴۔دارالقضاء، ربوہ) خیار بلوغ کی مدت سوال :۔عرض کیا گیا کہ خیار بلوغ کی کوئی مدت معین ہے یا اس کی کوئی خاص میعاد نہیں؟ جواب:۔فرمایا۔یہ محض عقلی چیز ہے۔عقلاً کسی لڑکی کے متعلق جتنا عرصہ ضروری سمجھا جائے گا اس کے لئے ہم خیار بلوغ کی وہی میعاد قرار دیں گے۔اس میں سالوں یا عمر کی تعین نہیں کی جاسکتی۔خیار