فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 250

۲۵۰ خلع کرتا تو وہ تو حید کے بھی خلاف کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس عورت کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔حالانکہ تو حید کامل یہ کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا ہمارا کوئی گزارہ نہیں۔تو ہم مشرک ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور یقین سے دور چلے جاتے ہیں۔الفضل ۱۳ فروری ۱۹۵۹ء) ایک عورت اگر ضلع چاہتی ہے تو مرد کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے وہ تو اگر ایک دفعہ مانگتی ہے تو یہ دودفعہ دیوے۔اس کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔پھر جب وہ بیچاری ضلع مانگتی ہے تو وہ اپنا حق آپ چھوڑ دیتی ہے۔مہر چھوڑ دیتی ہے اور کئی قسم کے حقوق جو شریعت نے اس کے لئے مقرر کئے ہیں سارے ترک کر دیتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے راستہ میں روک پیدا کی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو ایک عورت نے ایک دفعہ ایسی ہی بات کہہ دی پیچھے اس نے بتایا کہ مجھے سکھایا گیا تھا کہ ایسا ہی کہنا اچھا ہوتا ہے لیکن بہر حال وہ دھوکا میں آگئی اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ کے پاس آنا پسند نہیں کرتی۔اسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور آپ نے فرمایا اس کو مہر وغیرہ اخراجات دیدو۔اور اس کو رخصت کر دو۔دیکھو یہ چیز ہے جو اسلام سکھاتا ہے کہ اس کی درخواست کو اور اس کے اس فقرہ کو ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضلع سمجھا اور اسے خلع قرار دے دیا۔پس اگر ایک عورت خلع مانگتی ہے تو جس طرح تم کو طلاق دینے کا حق ہے عورت کے لئے شریعت نے ضلع رکھا ہے۔تم کیوں خواہ مخواہ اس پر لڑا کرتے ہو۔پھر طلاق دیتے ہیں تو مہر کے لئے ہزاروں بہانے بناتے ہیں کہ میں نے مہر نہیں دینا۔اگر مہر دینے کی طاقت نہیں تو اس کو طلاق ہی کیوں دیتے ہو۔(الفضل ۲۳ را کتوبر ۱۹۵۵ء صفحه ۳) شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔اگر کوئی مرد ایسا کرے تو یہ کافی وجہ خلع کی ہو سکتی